Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 368

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان زمین کے اوپر کس طرح اکڑ کر چلتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ زمین پر چلنا اس کا حق نہیں یہ صرف خدا کی طرف سے امتحان کی مہلت ہے۔ انسان یہاں دھوپ اور ہوا اور پانی اور غذا اور بے شمار دوسری چیزوں کو استعمال کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ یہ سب چیزیں اس کے لیے ہیں۔ حالانکہ یہ صرف وقفہ امتحان تک اس کے لیے ہیں۔ اس کے بعد وہ صرف اس شخص کے لیے ہوں گی جس نے ان کا حق ادا کیا ہو۔ باقی تمام لوگوں کے حصہ میں ابدی محرومی کے سوا اور کچھ نہیں آئے گا۔ انسان اختیار واقتدار پا کر گھمنڈ کرنے لگتا ہے۔ اس کو خبر نہیں کہ یہ اختیار واقتدار خدا کی امانت ہے۔ اور اس کو پا کر گھمنڈ کرنا خدا کی امانت میں خیانت کرنا ہے۔ جس کی کم سے کم سزا یہ ہے کہ اس کو دائمی طور پر ہر قسم کے عزت اور اقتدار سے محروم کر دیا جائے۔ یہ ایک بے حد نازک صورت حال ہے۔ ہر آدمی ایک انتہائی بھیانک انجام کے کنارے کھڑا ہوا ہے۔ اس دنیا کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ لوگوں کو اس صورت حال سے باخبر کیا جائے۔ موجودہ دنیا کی چیزوں کو جو لوگ ذاتی چیز سمجھ کر اس میں بے روک ٹوک تصرف کر رہے ہیں ان کا حال آخرت میں وہی ہوگا جو کسی بینک کے اس اکاؤنٹ کا ہوتا ہے جو بینک کی الماری میں بھرے ہوئے نوٹوں کو اپنی ذاتی چیز سمجھ لے۔ ظاہر فریبی ایئر مارشل عبداللطیف ہوائی جہاز چلانے کا چالیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ 25 اگست 1981 کو انھوں نے روسی ساخت کا آواز سے تیز چلنے والا لڑاکا جہاز مگ 25 آزمائشی طور پر اڑایا۔ آدھا گھنٹہ تک پرواز کرنے کے بعد انھوں نے جہاز کو نیچے اتارا۔ ایئر مارشل جب ہوائی جہاز سے باہر آئے تو انھوں نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page