Urdu book · اللہ اکبر

ظاہر فریبی

Urdu book, p. 369

By Maulana Wahiduddin Khan

ہماری پرواز کے سامنے ہمالیہ پہاڑ بھی چھوٹا دکھائی دیتا تھا (ٹائمس آف انڈیا، آواز سے تیز رفتار جہاز کے اوپر اڑائیں بھر رہا ہو تو اس وقت جہاز کے اوپر بیٹھے ہوئے آدمی کو ہمالیہ واقعی حقیر دکھائی دیتا ہے، اور اپنی عظمت کا ایک عجیب احساس پیدا کرتا ہے مگر یہ غلط فہمی اس وقت ختم ہو جاتی ہے جب کہ جہاز ہمالیہ کی کسی چوٹی سے ٹکرا جائے ۔ چٹان کے معمولی ٹکراؤ سے بھی فی الفور جہاز میں آگ لگ جاتی ہے اور اچانک جہاز اور اس کا مسافر دونوں اس طرح راکھ کا ڈھیر بن جاتے ہیں جیسے کہ ان کی کوئی حقیقت ہی نہ تھی۔ موجودہ دنیا میں کسی کو کوئی بڑائی ملتی ہے تو وہ بہت جلد غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ حالاں کہ دنیا کی ہر بڑائی ایسی ہی ہے جسے تیز رفتار ہوائی جہاز کے اوپر سے کسی آدمی کا پہاڑ کو دیکھنا ۔ ایسے مسافر کو بظاہر اپنی سواری عظیم معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہ ایک خیالی فریب کے سوا اور کچھ نہیں۔ حالات کا معمولی فرق بھی اس کو یہ بتانے کے لیے کافی ہو جاتا ہے کہ اس کی کوئی حقیقت نہ تھی۔ دنیا میں کسی چیز کو پانے کے لیے جن بے شمار اسباب کی موافقت ضروری ہے ان کی فراہمی کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔ یہ صرف خدا ہے جو تمام موافق اسباب کو یکجا کر کے کسی واقعہ کو ظہور میں لاتا ہے۔ تاہم اس سارے معاملہ پر ظاہری اسباب کا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ آدمی سے یہ مطلوب ہے کہ وہ حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے خدا کی خدائی اور اس کے مقابلہ میں اپنی بندگی کا اعتراف کرلے۔ وہ بظاہر اپنی کوششوں سے پائے مگر اس کو خدا کی طرف سے آیا ہوا سمجھے ۔ وہ بظاہر بڑا بنا ہوا ہو مگر اپنے کو چھوٹا یقین کرے ۔ وہ بظاہر بلندی پر اُتر رہا ہو مگر اپنے کو پستی میں اترا ہوا محسوس کرے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page