قومی ہیرو
Urdu book, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
قومی ہیرو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے ناظم دینیات کے دفتر میں بی ایس سی کا ایک مسلمان طالب علم داخل ہوا ”یہ مسلم یونیورسٹی ہے۔“ اس نے پرجوش انداز میں کہنا شروع کیا۔ ”یہاں آپ دینی امور کے ذمہ دار ہیں۔ میں آپ کے علم میں یہ بات لانا چاہتا ہوں کہ یہاں کی آزاد لائبریری میں انگریزی کی ایک کتاب ہے جس میں ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصویر ہے۔ آپ اس کتاب کو فورا لائبریری سے ہٹا دیں ورنہ۔۔۔“ ناظم دینیات نے کہا ”تم جانتے ہو کہ آزاد لائبریری بہت بڑی لائبریری ہے۔ یہاں دنیا کے مختلف اداروں سے کتابیں آتی رہتی ہیں۔ ایسی حالت میں یہاں ایسی کتابیں بھی آسکتی ہیں جن میں اللہ میاں کا مذاق اڑایا گیا ہو۔ کیا تم ایسی سب کتابوں کو دیکھ کر اشتعال ہوتے رہو گے“۔ ”سر اللہ میاں تو سب کے ہیں اور رسول اللہ تو ہمارے ہیں“ (احتساب، علی گڑھ، 15 مئی 1984ء)۔ مسلمان طالب علم کو کیوں خدا سب کا نظر آیا اور رسول صرف اپنا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے رسول کو اپنا قومی ہیرو سمجھ لیا۔ ہر قوم کا اپنا الگ ایک ہیرو ہوتا ہے جس پر وہ دوسری قوموں کے مقابلہ میں فخر کرتی ہے۔ خدا میں اشتراک ممکن ہے مگر قومی ہیرو میں اشتراک ممکن نہیں۔ یہی قومی نفسیات تھی جس کی وجہ سے مسلمان طالب علم خدا کے خلاف بات پر نہیں بھڑکا مگر رسول اللہ کے خلاف بات کو دیکھ کر بھڑک اٹھا۔ مذکورہ طالب علم کا واقعہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی صحیح نمائندگی کر رہا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان کبھی ”جشن خداوندی“ نہیں مناتے۔ البتہ وہ ”جشن محمدی“ خوب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader