تضاد فکری
Urdu book, p. 371
By Maulana Wahiduddin Khan
تضاد فکری قرآن میں ارشاد ہوا ہے: ”اللہ نے کسی آدمی کے اندر دو دل نہیں بنائے اور نہ تمہاری بیویوں کو جن کو تم ماں کہو بیٹھے ہو تمہاری مائیں بنایا اور نہ تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے بیٹے بنایا۔ یہ تمہارے اپنے منہ کی بات ہے۔ اور اللہ حق کہتا ہے اور وہ صحیح راہ دکھاتا ہے۔ منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو، یہی پورا انصاف ہے اللہ کے یہاں“ (33:4)۔ قدیم عربوں میں یہ رواج تھا کہ اگر کوئی شخص نادانی میں اپنی بیوی کو ماں کہہ دیتا : أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي (مسند احمد، حدیث نمبر (27319) تو وہ اس کے لیے حقیقی ماں کی طرح حرام ہو جاتی۔ گویا اس لفظ کے بولنے سے وہ سچ مچ اس کی ماں بن گئی ہے۔ اسی طرح اگر ایک شخص کسی کو منہ بولا بیٹا (تبنیٰ) بنا لیتا تو وہ اس کو صلبی بیٹے کی طرح سمجھنے لگتے اور اس پر وہی احکام صادر کرتے جو حقیقی بیٹے کے لیے ہوتے ہیں۔ اسلام نے اس جاہلی رواج کے خاتمہ کا اعلان کیا۔ ”ایک سینہ میں دو دل“ کا مطلب کسی شخص کا بیک وقت دو متضاد نقطۂ نظر رکھنا ہے ۔ خدا نے جب انسان کے سینہ میں دو دل نہیں رکھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے سوچنے کے انداز میں بھی دوئی نہیں ہونی چاہیے۔ یہ بات خدائی اسکیم کے خلاف ہے کہ کوئی شخص بیک وقت دو مختلف اور متضاد نظریہ کو اپنے اندر جگہ دے۔ ایک طرف وہ حقیقی ماں اور بیٹے کو ماں اور بیٹا سمجھے اور دوسری طرف محض زبان سے کسی کو ماں یا بیٹا کہہ دینے کی بنا پر بھی اس کو ماں یا بیٹا ماننے لگے۔ جو شخص ایسا کرے اس نے گو یا فکری دوئی کا مظاہرہ کیا۔ اس نے ایک طرف ایک حقیقی چیز کو حقیقت سمجھا اور دوسری طرف ایک بے حقیقت چیز کو بھی حقیقت قرار دیا۔ یہ متضاد خیالات کو ایک دل میں جگہ دینا ہے جو فطرت کے وحدانی نقشہ کے سراسر خلاف ہے۔ یہ سچائی اور تعصب کو ایک ساتھ ماننا ہے۔ حقیقت پسندی اور تو ہم پرستی کو بیک وقت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader