اللہ اکبر
Urdu book, p. 372
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنے ذہن میں جگہ دینا ہے۔ ایک روایتی نقطۂ نظر کو بھی اسی طرح تسلیم کرنا ہے جس طرح خالص عقلی نقطۂ نظر کو تسلیم کرنا چاہیے۔ اسی طرح توحید کے عقیدہ کے ساتھ مشرکانہ خیالات کو ماننا، حقیقت واقعہ اور تو ہمات کو ایک ساتھ اپنے ذہن میں جگہ دینا، اصولی صداقت کا اقرار کرنے ساتھ شخصیت پرستی کو اختیار کرنا، قرآن کی محکم آیتوں پر عقیدہ رکھتے ہوئے پُرعجوبہ قصے کہانیوں میں مشغول ہونا، سب ایک دل والے سینہ کو دودل والاسینہ بنانا ہے جو سراسر تضاد ہے اور ایسا ہر تضاد خدا کی اس بے تضاد دنیا میں جگہ پانے کے قابل نہیں۔ کائنات کو پڑھیے قرآن کتاب کائنات کی ڈکشنری ہے۔ یہی بات قرآن میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے يُدَبِّرُ الْأَمْرَ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ (13:2) ۔ یعنی، خدا کائنات کا انتظام کر رہا ہے اور قرآنی آیتوں کے ذریعہ اس کی تفصیل بیان کرتا ہے۔ ایک شخص کائنات کو دیکھتا ہے۔ وہ اپنی کم فہمی سے یہ سمجھنے لگتا ہے کہ کائنات ایک اتفاقی حادثہ کا نتیجہ ہے۔ یہاں قرآن اس کو بتاتا ہے کہ نہیں، کائنات ایک صاحب ارادہ کے ارادی منصوبہ کے تحت وجود میں آئی ہے۔ ایک شخص دیکھتا ہے کہ کائنات بظاہر کچھ اسباب کے تحت چل رہی ہے۔ وہ سمجھ لیتا ہے کہ کائنات ایک عظیم خود چالو مشین ہے۔ یہاں قرآن اس کو بتاتا ہے کہ نہیں، کائنات کو خدا کے فرشتے خدا کے حکم سے چلا رہے ہیں۔ ایک شخص انواع حیات کے بعض ظاہری پہلووں کی بنا پر یہ رائے قائم کرلیتا ہے کہ زندگی کی تمام قسمیں سلسلۂ ارتقا کے تحت وجود میں آئی ہیں۔ یہاں قرآن اس کی رہنمائی کرتا ہے اور اس کو بتاتا ہے کہ نہیں۔ زندگی کی مختلف قسمیں ایک خالق کی تخلیق سے ظہور میں آئی ہیں۔ کائنات کو دیکھیے تو یہاں آرٹ اور کمال کے حیرت انگیز نمونے دکھائی دیتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader