Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 373

By Maulana Wahiduddin Khan

یہاں ایٹم رقص کر رہے ہیں۔ یہاں دو بے جان مادے باہم مل کر تیسری نئی چیز میں ڈھل جاتے ہیں۔ یہاں بے شمار ستارے سفر کر رہے ہیں ان کی رفتار میں ایک سیکنڈ کا بھی فرق نہیں ہوتا۔ یہاں ایک پیچ سر سبز درخت کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ یہاں زندگی کا سیلاب چاروں طرف نظر آتا ہے۔ اس قسم کے بے شمار عمل یہاں جاری ہیں مگر تمام عمل خاموشی کے ساتھ انجام پا رہے ہیں۔ کائنات کا کوئی کردار اپنا تعارف نہیں کراتا، وہ انسان سے ہم کلام ہو کر اپنے بارے میں کچھ نہیں بتاتا۔ آدمی یہ دیکھ کر سوچنے لگتا ہے کہ کائنات شاید گونگے شاہکاروں کا عجائب خانہ ہے۔ یہاں قرآن اس کو بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا کے ہنگامے بے مقصد نہیں۔ ایک وقت آنے والا ہے جب کہ دنیا کی معنویت پوری طرح ظاہر ہو۔ اس وقت تمام چیزیں بول پڑیں گی جس طرح خاموش ریکارڈ گر اموفون کی سوئی کے نیچے آتے ہی بولنے لگتا ہے۔ اس دن تمام کمیوں کی تلافی ہوگی جو موجودہ دنیا میں نظر آتی ہیں۔ انسان اپنے تمام سوالات کا جواب پالے گا۔ ہر انسان اپنے اس انجام کو پہنچ جائے گا جہاں باعتبار حقیقت اسے پہنچنا چاہیے۔ معیاری دنیا آدمی پیدائشی طور پر معیار پسند (Idealist) ہے۔ ہر آدمی ایک معیاری دنیا (Ideal world) کی تلاش میں ہے۔ مگر اس دنیا میں معیاری دنیا کا بننا ممکن نہیں۔ اس دنیا میں آدمی کو صرف معیاری نظریہ دیا جا سکتا ہے نہ کہ معیاری دنیا۔ معیاری دنیا بننے کی جگہ صرف آخرت ہے۔ موجودہ دنیا امتحان کی حکمت کے تحت بنائی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں بہت سی محدودیتیں (Limitations) ہیں۔ یہ محدودیتیں خود خالق کی طرف سے ہیں اور ان کی موجودگی میں یہاں معیاری دنیا بننا ممکن نہیں۔ اسی کے ساتھ امتحان کی مصلحت کے تحت یہاں سے ہر شخص کو آزادی حاصل ہے۔ یہاں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page