Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 374

By Maulana Wahiduddin Khan

اگر نیک لوگوں کو عمل کی آزادی ہے تو یہاں برے لوگوں کو بھی چھوٹ ملی ہوئی ہے کہ وہ جو چاہیں کریں۔ چنانچہ بار بار ایسا ہوتا ہے کہ نیک لوگ ایک نقشہ بناتے ہیں اور برے لوگ شرارتیں کر کے اس نقشہ کو توڑ ڈالتے ہیں۔ امتحان کا تصور موجودہ دنیا کو سمجھنے کی کنجی ہے۔ فلاسفہ اور مفکرین اس کنجی کو نہ پاسکے۔ اس لیے دنیا کو سمجھنے میں بھی وہ ناکام رہے۔ انھوں نے موجودہ دنیا میں اپنی پسند کی دنیا بنانی چاہی۔ مگر "ناقص دنیا" میں "کامل دنیا" نہیں بن سکتی، چنانچہ ان کے حصہ میں ذہنی انتشار کے سوا اور کچھ نہ آیا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں معیاری دنیا نہیں بن سکتی۔ معیاری بننے کی جگہ آخرت ہے۔ یہاں صرف یہ ممکن ہے کہ لوگوں کو خدا کی اسکیم سے آگاہ کیا جائے اور ان کو آخرت پسندی کی زندگی گزارنے کی طرف متوجہ کیا جائے اس دعوت کے نتیجہ میں اگر انسانوں کی بہت بڑی تعداد دین حق پر آجائے تو ان کے اجتماع سے یقیناً ایک ایسا معاشرہ بن جائے گا جو نسبتاً بہتر معاشرہ ہوگا۔ نیز اگر حالات نے مساعدت کی تو یہ گروہ غیر دینی نظام کے اوپر غلبہ بھی حاصل کرسکتا ہے۔ اور وہ چیز بھی قائم ہوسکتی ہے جس کو دینی حکومت کہا جاتا ہے۔ تاہم اس کی کوئی ضمانت نہیں کہ یہ معاشرہ یقینی طور پر "معیاری" معاشرہ ہوگا۔ اور نہ اس کی کوئی ضمانت ہے کہ وہ مستقل طور پر باقی رہے گا۔ یہ ساری چیزیں خدا نے آخرت کی دنیا میں رکھ دی ہیں اور جو چیزیں مالک کائنات نے اگلی دنیا میں رکھ دی ہوں ان کو ہم موجودہ دنیا میں کبھی نہیں پاسکتے۔ غلط استعمال جون 1984 میں امرت سر کے سورن مندر (Golden Temple) کے خلاف فوجی کارروائی کی گئی۔ ہندوستانی فوج کی اس کارروائی کا خفیہ نام آپریشن بلیو اسٹار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page