غلط استعمال
Urdu book, p. 375
By Maulana Wahiduddin Khan
( Operation Blue Star ) تھا۔ سورن مندر سکھوں کا انتہائی متبرک مقام ہے۔ اس واقعہ کے بعد کچھ پرجوش سکھوں میں ”شہید“ ہونے کا جذبہ بھڑک اٹھا۔ چنانچہ 31 اکتوبر 1984 کو خود انہیں سکھ جوانوں نے گولی مار کر اندرا گاندھی کو قتل کر دیا جو حفاظت کی خاطر وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ میں متعین کیے گئے تھے۔ اس کے بعد مقدمہ چلا۔ 11 فروری 1985 کو چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ مسٹر ایس ایل کھنہ کی عدالت میں ملزمین کے خلاف 20 صفحات کی چارج شیٹ پیش کی گئی۔ اس سلسلہ میں اخبارات میں جورپورٹ آئی ہے اس کا ایک حصہ یہ ہے: Satwant Sing has further been charged under section 27 of the Arms Act for using a weapon lawfully supplied to him to commit murder. قاتل ستونت سنگھ (1989-1962) پر اسلحہ ایکٹ کی دفعہ 27 کے تحت مزید یہ الزام ہے کہ ایک ہتھیار جو اس کو جائز طور پر دیا گیا تھا اس کو اس نے قتل کرنے کے لیے استعمال کیا (ٹائمز آف انڈیا، 12 فروری 1985)۔ ستونت سنگھ کو جو قیمتی آٹومیٹک ہتھیار دیا گیا تھا وہ وزیر اعظم کی حفاظت کے لیے تھا نہ کہ وزیر اعظم کو قتل کرنے کے لیے۔ یہ اگرچہ اس کے لیے جائز قانونی ہتھیار تھا مگر جب اس نے اس کا غلط استعمال کیا تو وہ قانون کی نظر میں مجرم قرار پایا۔ وہی ہتھیار جس کا صحیح استعمال اس کو انعام کا مستحق بناتا اس کے غلط استعمال نے اس کو سزا کا مستحق بنا دیا۔ اسی طرح خدا کی طرف جو چیزیں انسان کو دی گئی ہیں وہ اس کا جائز حق ہیں۔ مگر وہ صرف صحیح استعمال کے لیے ہیں۔ آدمی اگر ان چیزوں کا غلط راہ میں استعمال کرے تو وہ خدا کی نظر میں مجرم قرار پائے گا اور آخرت کی عدالت میں وہ ایسی سخت سزا کا مستحق ہوگا جس سے وہ کبھی نجات نہ پاسکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader