Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 377

By Maulana Wahiduddin Khan

تو وسیلہ کی بھی کوئی اہمیت نہیں۔ مگر اکثر انسان اس فرق کو بھول جاتے ہیں۔ وہ دنیا کی دولت حاصل کرنے میں اتنا مشغول ہوتے ہیں جیسے کہ دنیا کی دولت بذات خود مقصود ہو، جیسے کہ دنیا کی دولت ہی کا دوسرا نام زندگی ہو۔ انسان کے لیے کامیاب زندگی کا کوئی نقشہ آخرت کو شامل کیے بغیر نہیں بن سکتا۔ انسان کو دو میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرنا ہے۔ موجودہ دنیا کو سب کچھ سمجھ کر کرنا کامی کی موت مرنا یا موجودہ زندگی کو آخرت تک وسیع کر کے اپنے لیے کامیاب زندگی کا راز دریافت کرنا۔ امتحان انسان کی آنکھ کیسی عجیب چیز ہے۔ اگر آپ اپنی آنکھ بند کر لیں تو آپ کو کچھ دکھائی نہیں دے گا۔ ساری دنیا آپ کے لیے ایک معلوم اندھیرا بن کر رہ جائے گی۔ دنیا ہوگی مگر آپ اس کو نہیں دیکھیں گے۔ چیزیں ہوں گی مگر آپ ان کو محسوس نہیں کریں گے۔ مگر جب آپ اپنی آنکھ کھولتے ہیں تو حیرت انگیز طور پر چیزوں کو دیکھنے لگتے ہیں۔ اب کالی چیز آپ کو سفید چیز سے الگ دکھائی دینے لگتی ہے۔ اب متحرک چیز آپ کو متحرک دکھائی دیتی ہے اور جامد چیز جامد حالت میں نظر آتی ہے۔ آپ انسان کو انسان کے روپ میں دیکھتے ہیں اور جانور کو جانور کے روپ میں۔ یہی انسان کا خصوصی امتیاز ہے۔ وہ چیزوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے پہچانتا ہے۔ وہ خیر اور شر کا فرق کرنا جانتا ہے۔ وہ روشنی کو تاریکی سے اور تاریکی کو روشنی سے جدا کر کے دیکھتا ہے۔ وہ یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ حق کو حق کے روپ میں دیکھے اور باطل کو باطل کے روپ میں پہچان لے۔ وہ اس فرق سے آشنا ہے کہ کون سی چیز دلیل سے ثابت ہوئی اور کون سی چیز دلیل سے ثابت نہیں ہوئی۔ انسان کی یہی خصوصیت اس کے لیے اس کے امتحان کا پرچہ ہے۔ یہی وہ خاص مقام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page