اللہ اکبر
Urdu book, p. 378
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے جہاں اس کا خدا اس کا امتحان لے رہا ہے۔ انسان کو اس دنیا میں یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے خیر کو شر سے الگ کر کے دیکھا۔ اس نے ظلم اور انصاف کے فرق کو پہچانا۔ اس کے سامنے جب کوئی بات آئی تو اس نے اس کو دلیل کی سطح پر جانچا۔ اگر وہ بے دلیل تھی تو اس نے اسے رد کر دیا اور اگر وہ دلیل سے ثابت ہو رہی تھی تو اس نے کھلے طور پر اس کا اعتراف کر لیا۔ یہ امتحان بظاہر بہت آسان ہے مگر اس کی ایک قیمت دینی پڑتی ہے۔ یہ قیمت اپنی نفی ہے۔ حق کسی آدمی کو اپنی ذات کی نفی کی قیمت پر ملتا ہے۔ آدمی یہ قیمت نہیں دے پاتا، اس لیے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ امتحان میں ناکام ہو جاتا ہے۔ آدمی کے سامنے حق ظاہر ہوتا ہے مگر وہ اس کو دیکھ نہیں پاتا۔ اس کے پاس حق کی آواز گونجتی ہے مگر وہ اس کو سن نہیں پاتا۔ حق خود چل کر اس کے پاس آتا ہے مگر اس سے اس کی ملاقات نہیں ہوتی۔ آہ، وہ انسان جو عین اس مقام پر سب سے زیادہ ناکام ہو جاتا ہے جہاں اس کو سب سے زیادہ کامیاب ہونا چاہیے۔ دو قسم کے بیچ زمین میں ایک سڑا ہوا بیج ڈالا جائے تو وہ مزید سڑ گل کر ختم ہو جاتا ہے۔ اس کو نہ کوئی ہرا لباس ملتا اور نہ اس پر کبھی بہار آتی۔ اس کے اجزاء اگرچہ زمین میں موجود رہتے ہیں مگر ان کے وجود کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ دنیا میں نہ ان کا کوئی مقام ہوتا اور نہ دنیا کی چیزوں میں ان کا کوئی حصہ ہوتا۔ اس کے برعکس، زمین میں اگر ایک اچھا بیج ڈالا جائے تو وہ دوبارہ ایک زندہ وجود کے طور پر باہر آتا ہے۔ وہ ایک ہرا بھرا درخت بن کر پہلے سے زیادہ بہتر صورت میں زمین کے اوپر کھڑا ہوتا ہے۔ ساری کائنات اس کے لیے غذائی دستر خوان بن جاتی ہے۔ وہ ایک انتہائی مکمل وجود کی صورت میں زمین کے اوپر اپنی جگہ حاصل کرتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader