Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 379

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ خدا کی ایک نشانی ہے جو آخرت کے معاملہ کو ہمیں واقعات کی زبان میں بتاتی ہے۔ وہ آخرت کے معاملہ کو ہماری آنکھوں کے سامنے مصوّر کرتی ہے۔ ایک انسان وہ ہے جو غیر صالح ہے۔ ایسے انسان کی مثال خراب بیج کی ہے۔ وہ مرنے کے بعد زمین میں دفن ہوگا ، صرف اس لیے کہ مٹی میں مل کر مٹی ہوجائے۔ ایک سڑے ہوئے وجود کے سوا اس دنیا میں اس کی کوئی حیثیت باقی نہ رہے۔ دوسرا انسان وہ ہے جو صالح انسان ہے۔ اس کی مثال عمدہ بیج کی ہے۔ وہ بھی اگرچہ مرنے کے بعد زمین میں دفن ہوگا۔ مگر وہ اس لیے دفن ہوگا کہ پہلے سے زیادہ شاداب ہوکر ایک نئی زندگی کی صورت میں نمایاں ہو۔ وہ کائنات میں اپنے لیے دوبارہ بہترین مقام پاسکے۔ وہ خدا کے باغ میں سرسبز درخت کی طرح نشوونما پائے۔ اسی سے جہنم کا معاملہ اور جنت کا معاملہ سمجھا جاسکتا ہے۔ جہنم گویا ایک خراب زمین ہے جہاں تمام سڑے ہوئے بیج پھینک دئے جائیں گے۔ اس کے برعکس ، جنت گویا بہترین زرخیز زمین ہے جہاں تمام بہترین بیج چھانٹ کر ڈالے جائیں گے تاکہ وہ سرسبز وشاداب فصل کی صورت میں اُگیں اور بہترین موافق ماحول میں لہلہائیں۔ اگلا پیرا گراف ایک ناول نگار کا واقعہ ہے۔ اس نے ایک ناول لکھا۔ یہ ناول بہت زیادہ ضخیم تھا۔ اس کو دیکھ کر اس کے ایک دوست نے کہا - "اف اتنا لمبا ناول ، اس کو لکھتے لکھتے تم اکتا نہیں گئے" ناول نگانے فوراً جواب دیا: "ہرگز نہیں۔ میری تو وجہ ہمیشہ اگلے پیرا گراف پر لگی رہتی تھی۔" انسانی زندگی بھی اسی قسم کی ایک طویل اکتا دینے والی کہانی ہے جو ہماری کامیابیوں اور ناکامیوں کے واقعات کے ساتھ ہر آن لکھی جارہی ہے۔ اس لمبی اور خشک کہانی سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page