Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 385

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے ۔ اس طرح بولنے والے کے اندر وہ کردار ادا بھرتا ہے جس کو شریعت کی زبان میں منافق کہا گیا ہے۔ وہ ایک ایسا انسان ہوتا ہے جو اندر سے کچھ ہوتا ہے اور باہر سے کچھ۔ وہ دل میں ایک چیز کو حق سمجھتا ہے اور زبان سے اس کے خلاف بولتا ہے۔ اس کی عقل اس کو ایک طریقہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے مگر محض اپنی قیادت کو باقی رکھنے کی خاطر وہ لوگوں کے سامنے دوسرے طریقہ کی وکالت کرتا ہے۔ اس کی آنکھ اس کو جو چیز اندھیرے کی صورت میں دکھاتی ہے اس کو وہ اپنی زبان سے اجالا بنا کر پیش کرتا ہے۔ ایسا انسان باعتبار حقیقت ایک مردہ انسان ہے۔ اگر چہ بظاہر وہ زندہ اور خوش پوش دکھائی دیتا ہو۔ داعی خدا کا سفیر ہوتا ہے۔ مگر دنیوی حکومتوں کے سفیر میں اور خدا کے سفیر میں بہت بڑا فرق ہے۔ دنیوی حکومت کا سفیر وہ بات کہنے کے لیے بھیجا جاتا ہے جس سے لوگ خوش ہوں۔ مگر خدا کا سفیر لوگوں کے سامنے اس لیے آتا ہے کہ انہیں وہ بات بتائے جس سے خدا خوش ہوتا ہے۔ ایک مصلحت کو سامنے رکھ کر بولتا ہے۔ دوسرا حق کے تقاضے کو سامنے رکھ کر بولتا ہے ۔ خواہ اس کی وجہ سے وہ لوگوں کے درمیان غیر مقبول ہو جائے۔ داعی کون داعی پیغمبر نہیں ہوتا مگر وہ خدا کا پیغام دینے والا ہوتا ہے۔ اس کو وہ بات کہنی پڑتی ہے۔ جو خدا کی بات ہے۔ اس کو وہ حق پیش کرنا ہوتا ہے جس میں غیر حق کی کوئی ملاوٹ شامل نہ ہو۔ دعوت خدا کے بندوں کے سامنے خدا کی نمائندگی ہے اور خدا کی نمائندگی کبھی مصلحت اور ملاوٹ کے ساتھ نہیں ہوسکتی۔ داعی وہ شخص بنتا ہے جس کے اوپر قرآن کے معانی اس طرح کھلیں جیسے کہ قرآن اس کے اوپر از سر نو اتر رہا ہے۔ داعی وہ شخص ہے جس کے لیے کائنات جبریل امین کی قائم مقام بن جائے ۔ وہ خدا کی دنیا میں اسی طرح خدا کا پیغام اخذ کرنے لگے جس طرح ریڈیو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page