Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 386

By Maulana Wahiduddin Khan

سٹ نشر گاہ کے پیغام کو اخذ کرتا ہے۔ سائنس داں کائنات میں قانونِ فطرت کو پڑھتا ہے ۔ داعی وہ ہے جو کائنات میں قانونِ ربانی کو پڑھنے لگے۔ دعوت خدا کے کلام کو انسانی کلام میں ڈھالنا ہے۔ دعوت خدا کی اس تسبیح کو الفاظ کا روپ دینا ہے جو کائنات میں خاموش صورت میں بیان ہورہی ہے۔ دعوت وہی دعوت ہے جس میں حق کو بالکل برہنہ صورت میں دکھا دیا جائے ۔ مگر حق کو برہنہ کرنے کے لیے داعی کو خود بھی ’’نذیر عرياں‘‘ بن جانا پڑتا ہے۔ داعی بننا ہمیشہ اپنی ہلاکت کی قیمت پر ہوتا ہے ۔ ماں کے پیٹ سے پیدا شدہ انسان ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کے اندر سے ایک نیا انسان ظہور میں آتا ہے اسی کا نام داعی ہوتا ہے۔ داعی انسان کے روپ میں غیر انسان ہوتا ہے ۔ داعی لوگوں کے درمیان رہ کر اپنے آپ کو لوگوں سے جدا کرتا ہے ، اسی وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ خدا کا داعی بنے ۔ داعی بننے کے لیے اپنے آپ کو حذف کرنا پڑتا ہے۔ دین کو اپنا فخر بنانے کے بجائے دین کو اپنا درد بنانا پڑتا ہے۔ اس کے بعد ہی کسی کو داعی کا مقام ملتا ہے۔ دوسرے انسانوں کو اس دین سے دلچسپی ہے جو آپ کا درد ہو۔ ان کو اس دین سے دلچسپی نہیں ہوسکتی جو آپ کا فخر ہو۔ دعوت اور فخر دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے۔ داعیانہ اخلاق کی ضرورت ایک شخص تاجر کی حیثیت سے زندگی گزارنے کا فیصلہ کرے، دوسرا شخص دادا گیری کو اپنا پیشہ بنائے ہوئے ہو تو دونوں کا اخلاق یکساں نہیں ہوسکتا۔ تاجر کا اخلاق اور ہوگا اور دادا گیری کرنے والے کا اور ۔ یہی معاملہ داعی کا ہے۔ جو شخص یا گروہ حق کا داعی بنے ضروری ہے کہ اس کی اخلاقیات بھی اس کے مطابق ہوں۔ اگر وہ زبان سے داعی ہونے کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page