Urdu book · اللہ اکبر

داعیانہ اخلاق کی ضرورت

Urdu book, p. 387

By Maulana Wahiduddin Khan

مدعی ہو مگر اس کا اخلاق غیر داعیانہ ہو تو وہ لوگوں کی نظر میں مسخرہ بن کر رہ جائے گا، وہ داعی کی حیثیت سے اپنا مقام حاصل نہیں کر سکتا۔ انتہائی لازمی طور پر ضروری ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان غیر دعوتی امور پر جھگڑے نہ کھڑے کیے جائیں۔ غیر دعوتی جھگڑے اس فضا ہی کو ختم کر دیتے ہیں جس میں داعی اپنی دعوت پیش کرے اور مدعو اس کو سنجیدگی اور ہمدردی کے ساتھ سنے۔ تاہم یہ دعوتی فضا داعی سے بہت بڑی قیمت مانگتی ہے۔ یہ قیمت صبر ہے۔ داعی کو ارادی اور شعوری طور پر یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ وہ نقصانات اور تکلیفوں پر صبر کرے گا۔ حضرت مسیح کے تمثیلی الفاظ میں مدعو اگر اس کا کرتا چھینے تو وہ اس کو اپنا چغہ بھی دینے کے لیے تیار رہے۔ مدعو اگر ایک کوس بیگار چلنے کو کہے تو وہ دو کوس بیگار چلا جائے۔ تا کہ کوئی غیر متعلق جھگڑا اکھٹا ہو کر دونوں کے درمیان ایسی صورت نہ پیدا کر دے کہ سننے اور سنانے کا ماحول ہی ختم ہو جائے۔ ماں اپنے بچہ کو دوا کھلانا چاہتی ہو اور اس وقت بچہ کوئی دوسری ضد شروع کر دے تو ماں بچے کی اس ضد کی راہ میں حائل نہیں ہوتی کیونکہ ایسا کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ دوا کھلانے کا کام رک جائے اور بچہ اور ماں کے درمیان ساری نزاع ایک غیر متعلق ضد پر ہونے لگے۔ اسی طرح داعی کو چاہیے کہ مدعو کے ہر وار کو اپنے اوپر سہتا رہے تاکہ دونوں کے درمیان اعتدال کی فضا قائم رہے اور داعی اپنی اصل بات کو مدعو کے دل میں اتار سکے۔ مدعو گروہ سے دوسری دوسری شکایتوں پر کش کش صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جن کے ذہنوں میں اپنے داعی ہونے کا شعور ختم ہو گیا ہو۔ جنھوں نے اپنی داعیانہ حیثیت کھودی ہو اور وہ دوسری قوموں کی طرح محض ایک قوم بن کر رہ گئے ہوں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اندر سے داعیانہ شعور ختم ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تمام سرگرمیاں بالکل قومی بن کر رہ گئی ہیں۔ اس روش نے مسلمانوں کو خدا کی نصرت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page