اللہ اکبر
Urdu book, p. 388
By Maulana Wahiduddin Khan
سے محروم کر دیا ہے۔ کیونکہ خدا کی نصرت دعوت الی اللہ کے لیے اٹھنے والوں کو ملتی ہے نہ کہ قومی جھگڑا کرنے والوں کو۔ رہنما کی ضرورت ہم کو بھوک لگتی ہے۔ ہم اپنی بھوک مٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ثابت ہوتا ہے کہ یہاں کھانا موجود تھا جو ہماری بھوک کو مٹائے۔ ہم اپنی پیاس کو بجھانے کے لیے عمل کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ معلوم ہو جاتا ہے کہ یہاں پانی موجود تھا جو ہماری پیاس کو بجھائے۔ ایسا ہی معاملہ سچائی کا ہے۔ آدمی ہمیشہ سچائی کا تلاش میں ہے۔ یہ تلاش ہی اس بات کو ثابت کررہی ہے کہ یہاں کوئی سچائی ہے جسے آدمی کو جاننا چاہیے۔ سچائی کھانے اور پینے سے زیادہ بڑی ہے۔ پھر جب ہماری چھوٹی طلب کا جواب اس دنیا میں موجود ہے تو ہماری بڑی طلب کا جواب یہاں کیوں نہ موجود ہوگا۔ سچائی کا سوال اپنی حقیقت کو جاننے کا سوال ہے۔ آدمی اچانک ایک روز پیدا ہو جاتا ہے۔ حالاں کہ اس نے خود کو پیدا نہیں کیا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک دنیا میں پاتا ہے جو اس سے الگ خود اپنے آپ قائم ہے۔ وہ پچاس سال یا سو سال اس دنیا میں رہ کر مر جاتا ہے۔ اس کو نہیں معلوم کہ وہ مر کر کہاں کہاں جاتا ہے۔ زندگی اور موت کی اسی حقیقت کو جاننے کا سوال سچائی کا سوال ہے۔ مگر ایک شخص جس طرح کھانا اور پانی کو جان لیتا ہے اسی طرح وہ سچائی کو نہیں جان سکتا۔ سچائی یقینی طور پر لامحدود اور ابدی ہے۔ سچائی اگر لامحدود اور ابدی نہ ہو تو وہ سچائی نہیں۔ مگر آدمی کی عقل اور اس کی عمر دونوں محدود ہیں۔ محدود عقل لامحدود سچائی تک نہیں پہنچ سکتی۔ محدود عمر کا آدمی ابدی سچائی کو دریافت نہیں کر سکتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader