Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 389

By Maulana Wahiduddin Khan

آدمی کی یہی نارسائی یہ ثابت کرتی ہے کہ سچائی کو جاننے کے لیے اسے پیغمبر کی ضرورت ہے۔ ”پیغمبری“ کیا ہے۔ پیغمبری کا مطلب یہ ہے کہ وہ سچائی جہاں تک آدمی اپنے آپ نہیں پہنچ سکتا تھا وہ خود آدمی تک پہنچ جائے۔ جس سچائی کو ہم اپنی کوششوں سے نہیں جان سکے، وہ خود ظاہر ہو کر اپنے بارے میں ہمیں بتا دے۔ حقیقت سے لوگوں کو پیشگی طور پر باخبر کرنے کے لیے اس کو خدا نے پیغمبر کے ذریعہ کھولا۔ موجودہ امتحان کی مدت ختم ہونے کے بعد اس کو براہ راست ہر آدمی پر کھول دیا جائے گا۔ پیغمبر نے بتایا کہ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ جس خدا کی اطاعت ساری کائنات جبر کے تحت کر رہی ہے اسی خدا کی اطاعت انسان ارادہ کے تحت کرنے لگے۔ وہ اپنے اختیار سے خود کو خدا کے آگے بے اختیار بنا لے۔ خدا کی دی ہوئی آزادی کے باوجود جو لوگ خدا کے محکوم بن جائیں ان کے لیے جنت اور جو لوگ آزادی پا کر سرکش بن جائیں ان کے لیے جہنم۔ داعی بننا داعی بننا خدا کا پیغام بر بننا ہے۔ خدا کا پیغام بروہی بن سکتا ہے جو خدا سے پا کر بولے اور خدا سے سن کر کلام کرے۔ خدا ملفوظ کلام میں بھی بولتا ہے اور غیر ملفوظ کلام میں بھی۔ خدا کا ملفوظ کلام رسولوں کے لیے خاص ہے اور وہ آخری رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ختم ہو گیا۔ موجودہ دنیا میں اب خدا کسی سے ملفوظ زبان میں کلام کرنے والا نہیں۔ مگر خدا کا غیر ملفوظ کلام بدستور جاری ہے۔ جس طرح کسی شخص کے پیغمبر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو خدا کا ملفوظ کلام پہنچے۔ اسی طرح داعی وہی شخص بن سکتا ہے جو خدا کے غیر ملفوظ کلام کا آخذ (Recipient) ہو۔ جس کو خدا کا غیر ملفوظ کلام مسلسل مل رہا ہو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page