غلط فہمی
Urdu book, p. 391
By Maulana Wahiduddin Khan
غلط فہمی حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون نے جب فرعون مصر کے سامنے توحید کی دعوت پیش کی تو اس نے کہا کہ تم دونوں چاہتے ہو کہ زمین میں بڑائی تمھارے لیے ہو (یونس، 10: 78)۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے اپنی دعوتی تقریر میں صرف خدا کی بڑائی بیان کی تھی پھر فرعون نے اس کو اس معنی میں کیوں لے لیا کہ موسیٰ اور اس کے بھائی خود اپنی بڑائی چاہتے ہیں۔ اس نے خدا کی بڑائی کی بات کو خود متکلم کی بڑائی کے ہم معنی کیوں سمجھ لیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ فرعون خدا کی بڑائی سے واقف نہ تھا۔ وہ صرف انسان کی بڑائی کو جانتا تھا۔ اس کو بس اتنی ہی خبر تھی کہ انسان بڑے ہوا کرتے ہیں۔ اس کو یہ معلوم نہ تھا کہ خدا سب سے بڑا ہے۔ ایسے لوگوں کی طرف سے دعوت حق کا رد عمل ہمیشہ اسی شکل میں ہوتا ہے۔ وہ خدا کی بڑائی سے واقف نہیں ہوتے۔ اس لیے داعی جب خدا کی بڑائی بیان کرتا ہے تو وہ اس کو اس کے سوا کسی اور معنی میں نہیں لے پاتے کہ داعی خود اپنی بڑائی بیان کر رہا ہے۔ وہ بے آمیز سچائی کو نہیں جانتے۔ وہ صرف اس سچائی سے آشنا ہوتے ہیں جس کے اوپر ان کی محبوب شخصیتوں کی مہر لگی ہوئی ہو۔ اس لیے داعی جب ان کے سامنے بے آمیز سچائی بیان کرتا ہے جس کے اوپر خدا کی مہر لگی ہوئی ہو تو اس کو وہ پہچان نہیں پاتے۔ اس کو وہ داعی کے اپنے احساس برتری پر محمول کر کے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ وہ برتر صداقت سے آشنا نہیں ہوتے۔ وہ صرف اس صداقت کو جانتے ہیں جو ان کے قومی تقاضوں کے ساتھ لپٹی ہوئی ہو۔ اس لیے داعی جب برتر صداقت کا اعلان کرتا ہے تو اس کو سن کر وہ متوحش ہو جاتے ہیں۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسی بھی کوئی صداقت ہو سکتی ہے جو ان کے قومی عزائم سے الگ اپنا وجود رکھتی ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader