Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 392

By Maulana Wahiduddin Khan

ایسے لوگ اپنی بے خبری کا الزام داعی کے اوپر ڈال دیتے ہیں۔ وہ یہ کہہ کر اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ وہ کبر میں مبتلا ہے ۔ وہ اپنا نام بلند کرنا چاہتا ہے۔ داعی خدا کی بڑائی کا اعلان کرتا ہے اور بے خبر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ داعی خود اپنی بڑائی کا اعلان کر رہا ہے۔ داعی خدا کی ذات کمال کی حمد بیان کرتا ہے مگر بے خبر لوگ خیال کرتے ہیں کہ وہ اپنی خود ستائی میں مشغول ہے۔ داعی حق کی یکتائی پر زور دیتا ہے اور بے بصیرت لوگ گمان کرتے ہیں کہ وہ اپنی انانیت کا اظہار کر رہا ہے۔ حق کی دعوت آج کل ہر آدمی دعوت حق کا نام لیتا ہے مگر دعوت حق ابھی تک وجود میں نہیں آئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں وہ اس کی قیمت ادا کرنا نہیں چاہتے۔ ہر چیز کی ایک کی قیمت ہوتی ہے اور دعوت حق کی بھی ایک قیمت ہے۔ جب تک وہ قیمت ادا نہ کی جائے دعوت حق کبھی وجود میں نہیں آسکتی۔ حق کی دعوت دینے کی لازمی شرط یہ ہے کہ غیر حق کو چھوڑ دیا جائے ۔ خدا کی بڑائی بیان کرنے کے لیے اٹھنا اور انسانوں کی بڑائی میں گم رہنا، آخرت کا داعی بننا اور دنیا کے مفادات کے لیے قوموں سے کش مکش کرنا ، ابدی مسائل کی بات کرنا اور اسی کے ساتھ وقتی مسائل میں الجھے رہنا ، یہ سب تضاد کی باتیں ہیں اور جو لوگ اپنے اندر تضاد لیے ہوں وہ کبھی حق کے داعی نہیں بن سکتے۔ اس قسم کا ہر واقعہ بتا تا ہے کہ لوگ ”داعی حق“ کا ٹائٹل لینے کے لیے تو دوڑ پڑے ہیں مگر وہ اس کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page