Urdu book · اللہ اکبر

حق کی دعوت

Urdu book, p. 393

By Maulana Wahiduddin Khan

لوگوں کو اپنی مفروضہ شخصیتیں اتنی زیادہ محبوب ہیں کہ ان پر ادنیٰ تنقید سننا بھی انہیں گوارا نہیں۔ لوگوں کو اپنے دنیا کے مفادات اور مصلحتوں سے اتنی دلچسپی ہے کہ وہ ان کو کسی حال میں چھوڑنا نہیں چاہتے۔ جو قو میں اسلام کے پیغام رحمت کے مخاطب ہیں ان سے وہ قومی اور مادی لڑائی چھڑ کر انہیں اسلام سے بدکائے ہوئے ہیں۔ اس قسم کی چیزوں کے ساتھ حق کی دعوت کا نام لینا صرف یہ ثابت کرتا ہے کہ آدمی حق کی دعوت کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔ حق کی دعوت ابدی صداقتوں کی دعوت ہے۔ حق کی پکار خدا اور آخرت کی پکار ہے۔ یہ ایک نہایت نازک کام ہے جس کے ساتھ کوئی دوسرا کام جمع نہیں ہو سکتا۔ حق کا داعی لوگوں کو موت اور قیامت کے بھیا نک مسئلہ سے آگاہ کرتا ہے۔ اس کو ہر واقعہ میں آخرت کی تصویر دکھائی دیتی ہے۔ وہ گرمی کی شدت دیکھتا ہے تو اس میں اس کو نار جہنم کی شدت دکھائی دیتی ہے۔ اس کو معاشی تکلیف کا سامنا ہوتا ہے تو وہ بھی اس کو آخرت کی تکلیف یاد دلانے والا بن جاتا ہے۔ وہ لوگوں کو "ظلم" کے خلاف چیختے ہوئے دیکھتا ہے تو کہتا ہے کہ لوگو، اس دن کو یاد کرو جب تمہارے پاس زبان بھی نہ ہوگی کہ تم بولو اور پانی کا ایک گلاس بھی نہ ہوگا جس سے تم اپنے سینہ کی آگ ٹھنڈی کرو۔ آخرت کی پکار ایک مسئلہ آدمی کے ذہن پر بہت زیادہ چھایا ہوا ہو تو دوسرے تمام مسائل سے اس کی نظریں ہٹ جاتی ہیں۔ وہ اپنے مخصوص مسئلہ کا اس طرح مبلغ بن جاتا ہے جیسے کہ بس وہی سارا مسئلہ ہے۔ اس کے سوا کسی اور مسئلہ کا کوئی وجود نہیں۔ کارل مارکس کے ذہن پر "معاش" کا مسئلہ چھا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مذہب،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page