Urdu book · اللہ اکبر

حق کی دعوت

Urdu book, p. 394

By Maulana Wahiduddin Khan

اخلاق، فلسفہ، ہر دوسری چیز کو اس نے نظر انداز کر دیا۔ ٹالسٹائی کے ذہن پر ’’انسانیت‘‘ کا غلبہ تھا۔ اس نے انسانیت کی باتیں اس طرح بتکرار کہیں گویا دوسرے سیاسی اور اقتصادی پہلوؤں کی اس کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں۔ ہندوستان میں بہت سے لیڈروں پر آزادی وطن کا خیال چھا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دوسری تمام چیزیں ان کے یہاں غفلت کے خانہ میں چلی گئیں۔ یہی معاملہ ایک اور صورت میں حق کے داعی کا ہے۔ حق کے داعی کی نظر میں سب سے زیادہ اہمیت آخرت کی ہوتی ہے۔ وہ جہنم سے سب سے زیادہ ڈرتا ہے اور جنت کا سب سے زیادہ مشتاق ہوتا ہے۔ اس کے قدرتی نتیجہ کے طور پر یہ ہوتا ہے کہ دوسرے تمام مسائل اس کی نظر میں ایسے بن جاتے ہیں جیسے کہ ان کا کوئی وجود نہیں۔ مزدور اور صنعت کار کے معاملات کیا ہیں۔ ملک پر کس شخص یا کس قوم کی حکومت ہے۔ عہدوں کی تقسیم میں کس کو زیادہ حصہ مل رہا ہے اور کس کو کم۔ ایک قوم نے دوسری قوم کے خلاف کیا جارحانہ منصوبہ بنا ر کھے ہیں۔ اس طرح کی تمام چیزیں داعی حق کی نظر میں غیر اہم ہوتی ہیں۔ دنیا کے مسائل اس کے لیے اسی طرح نا قابل ذکر بن جاتے ہیں جس طرح عام قائدین کے لیے موت اور آخرت کے مسائل نا قابل ذکر بنے ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں صرف دو ہی پکاریں ہیں۔ ایک دنیا کی پکار، دوسری آخرت کی پکار، آج تمام پکارنے والوں کا یہ حال ہے کہ وہ لوگوں کو دنیا کی طرف بلا رہے ہیں۔ وہ لوگوں کو سیاسی اور معاشی اور سماجی خطرات سے آگاہ کر رہے ہیں۔ بظاہر ان میں سے کوئی سیکولر اصطلاحوں میں بول رہا ہے اور اور کوئی مذہب کی اصطلاحوں میں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے سب کے سب ایک ہیں۔ کیوں کہ سب کے سب دنیا کے مسائل کو اپنی تو جہات کا مرکز بنائے ہوئے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page