اللہ اکبر
Urdu book, p. 397
By Maulana Wahiduddin Khan
لکچر کی کامیابی کے لیے ضروری بات یہ ہے کہ استاد اور طالب علم کے درمیان جذباتی ربط قائم ہو جائے۔ فیراڈے اور براگ نے جو بات کامیاب معلم بننے کے لیے لکھی ہے، وہی زیادہ شدت کے ساتھ کامیاب داعی بننے کے لیے ضروری ہے۔ داعی اور مدعو کا تعلق بے حد نازک تعلق ہے۔ وہ اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا جب تک اس کی نزاکتوں کی پوری رعایت نہ کی جائے۔ اپنے مدعو کو اپنا ہم سفر بنانے کے لیے آپ کو اس کے راستہ میں پھول بکھیرنا ہوگا۔ راستہ میں کانٹے اور پتھر بچھا کر آپ مدعو کو اپنا ہم سفر نہیں بنا سکتے۔ اسی طرح اپنی بات کو اس کے لیے قابل سماعت بنانے کی خاطر آپ کو یہ کرنا ہوگا کہ اس کو اتنے مؤثر انداز میں کہیں کہ آپ کی بات محض ایک خشک تلقین نہ معلوم ہو بلکہ وہ سننے والے کے لیے ایک ایسا تجربہ بن جائے جس میں وہ اپنے لیے ایک کیفیاتی کشش پا تا ہو۔ حق کی پکار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دعوتِ حق کی ذمہ داری سونپی گئی تو آپ نے مکہ کے باشندوں کو صفا پہاڑی کے پاس جمع کیا اور فرمایا کہ اے لوگو، جس طرح تم سوتے ہو اسی طرح تم مرو گے ۔ اور جس طرح تم جاگتے ہو اسی طرح تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے۔ اس کے بعد یا تو ابدی جنت ہے یا ابدی جہنم ۔ یہ سن کر ابو لہب نے کہا، تمہارا برا ہو، کیا تم نے ہم کو اسی لیے بلایا تھا : تَبًّا لَّكَ أَمَا جَمَعْتَنَا إِلَّا لِهَذَا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 208) ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ کے سردار بن کر مدینہ میں داخل ہوئے تو اس وقت بھی آپ نے اسی قسم کی تقریر فرمائی۔ اس وقت بھی آپ کے پاس کہنے کی جو سب سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader