حق کی پکار
Urdu book, p. 398
By Maulana Wahiduddin Khan
بڑی بات تھی وہ یہ تھی کہ اے لوگو! اپنے آپ کو آگ کے عذاب سے بچاؤ، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ کیوں نہ ہو: اِتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1417)۔ ہمارا مقصد اسی پیغمبرانہ دعوت کو زندہ کرنا ہے۔ لوگ مسائل زندگی کے لیے اٹھتے ہیں، ہم مسائل موت کے لیے اٹھے ہیں۔ کیا کوئی ہے جو اس مشن میں ہمارا ساتھ دے۔ لوگوں کو جنگ اور فساد کے شعلے دکھائی دیتے ہیں۔ کیا کوئی ہے جس کو جہنم کے بھڑکتے ہوئے شعلے دکھائی دیتے ہوں تا کہ وہ ہمارا ساتھ دے کر دنیا والوں کو جہنم کے شعلوں سے ڈرائے۔ لوگوں کو شہروں کی رونقیں دکھائی دیتی ہیں۔ ہم ان انسانوں کی تلاش میں نکلے ہیں جن کو قبرستان کے ویرانے دکھائی دیں۔ ایسے انسانوں سے دنیا پٹی ہوئی ہے جن کو یہ محرومی بیتاب کیے ہوئے ہے کہ ان کو کسی ادارہ میں داخلہ نہیں ملا۔ ہم کو وہ انسان درکار ہیں جن کو یہ غم بدحواس کردے کہ کہیں وہ جنت کے داخلہ سے محروم نہ ہو جائیں۔ لوگ دنیا کی بربادی کا ماتم کر رہے ہیں۔ ہم ان انسانوں کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ جو آخرت کی بربادی کے اندیشے میں دیوانے ہو چکے ہوں۔ خدا کی دنیا میں آج سب کچھ ہو رہا ہے۔ مگر وہی ایک کام نہیں ہو رہا ہے جو خدا کو سب سے زیادہ مطلوب ہے۔ یعنی آنے والے ہولناک دن سے لوگوں کو آگاہ کرنا۔ اگر انسان اس پکار کے لیے نہ اٹھیں تو اسرافیل کا صور اسے اٹھائے گا۔ مگر آہ، وہ وقت جاگنے کا نہیں ہوگا۔ وہ ہلاکت کا اعلان ہوگا نہ کہ آگاہی کا الا رم۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader