حق کی پکار
Urdu book, p. 399
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ انسان حضرت مسیح کے وعظوں میں سے ایک وعظ میں داعی اور مدعو کی تمثیل ہے۔ یہاں ہم اس تمثیل کا عربی اور اردو ترجمہ نقل کرتے ہیں : بِمَنْ أُشَبِّهُ هَذَا الْجِيْلَ؟ إِنَّهُمْ يُشْبِهُوْنَ أَوْلَاداً جَالِسِيْنَ فِي السَّاحَاتِ الْعَامَّةِ، يُنَادُوْنَ أَصْحَابَهُمْ قَائِلِيْنَ: زَمَّرْنَا لَكُمْ، فَلَمْ تَرْقُصُوا ! وَنَدَبْنَا لَكُمْ، فَلَمْ تَبْكُوا (متی ، 16:17- 11)۔ ترجمہ: پس اس زمانہ کے لوگوں کو میں کس سے تشبیہ دوں وہ ان لڑکوں کی مانند ہیں جو بازاروں میں بیٹھے ہوئے اپنے ساتھیوں کو پکار کر کہتے ہیں۔ ہم نے تمہارے لیے بانسری بجائی اور تم نہ ناچے ۔ ہم نے ماتم کیا اور تم نہیں روئے ۔ خدا کا داعی خدا کے سمندر میں نہاتا ہے۔ اس طرح اس کے لیے ممکن ہوتا ہے کہ وہ خدا کی دنیا میں خدا کے گیت گائے۔ وہ فطرت کے ساز پر خدا کے ابدی نغمے چھیڑے۔ ان نغمات میں ایک طرف خدا کے حسن و کمال کی تجلیاں ہوتی ہیں جن کا تقاضا ہوتا ہے کہ ان کو سن کر آدمی رقص کر اٹھے ۔ دوسری طرف ان نغمات میں خدا کی پکڑ کی تنبیہات ہوتی ہیں جو ایک حساس انسان کو تڑپا کر اسے رلا دیں۔ داعی خدا کے جمال و جلال کا مظہر ہوتا ہے۔ مگر انسان اتنا غافل ہے کہ وہ ان چیزوں سے کوئی اثر نہیں لیتا۔ داعی کے کلام کی صورت میں خدا بالکل اس کے قریب آ جاتا ہے، مگر اس وقت بھی وہ خدا کو نہیں پاتا۔ اس میں نہ حمد خداوندی کی کیفیات جاگتیں اور نہ خوف خدا سے اس کی آنکھیں تر ہوتیں ۔ وہ نازک ترین پیغامات کو بھی پتھر کی طرح سنتا ہے نہ کہ اس انسان کی طرح جس کو خدا نے وہ عقل دی ہے جو باتوں کی گہرائی کو پالے اور وہ دل دیا ہے جو درد سے تڑپ اٹھے۔ خدا کی طرف سے پکارنے والے کا وجود میں آنا کسی مشین پر بجنے والے ریکارڈ کا وجود میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader