Urdu book · اللہ اکبر

حق کی پکار

Urdu book, p. 400

By Maulana Wahiduddin Khan

آنا نہیں ہے۔ یہ روح انسانی میں ایک ایسے انقلاب کا برپا ہونا ہے جس کی شدت آتش فشاں پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت ہوتی ہے۔ داعی کا بولنا اپنے جگر کے ٹکڑوں کو باہر لانا ہوتا ہے۔ اس کا لکھنا اپنے خون کو سیاہی بنانے کے بعد وجود میں آتا ہے۔ اس کے نغمے محض نغمے نہیں ہوتے بلکہ روح انسانی میں ایک خدائی بھونچال کی آواز ہوتے ہیں۔ مگر اس دنیا کا شاید یہ سب سے زیادہ عجیب واقعہ ہے کہ ایسے ربانی کلمات بھی انسان کو متاثر نہیں کرتے۔ داعی اپنے پورے وجود کے ساتھ اس کے سامنے "نذیر عریاں" بن جاتا ہے، اس کے باوجود وہ اندھا بہرا بنا رہتا ہے۔ انسان کے سامنے جنت کی کھڑکیاں کھولی جاتی ہیں، پھر بھی وہ وجد میں نہیں آتا۔ اس کو بھڑکتے ہوئے جہنم کا نقشہ دکھایا جاتا ہے، پھر بھی اس پر گریہ طاری نہیں ہوتا۔ اس کے سامنے خدا خود آ کر کھڑا ہوجاتا ہے، پھر بھی وہ سجدہ میں نہیں گرتا۔ انسان سے زیادہ نازک مخلوق خدا نے کوئی نہیں بنائی، مگر انسان سے زیادہ بے حسی کا ثبوت بھی کوئی نہیں دیتا۔ میں ہوں، راکھ ان کے دیار کا ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page