Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر خدا پر زندہ عقیدہ کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ خدا پر زندہ عقیدہ خدا کو اس کی اتھاہ قوتوں کے ساتھ اس کو دیکھ لینے کا نام ہے۔ جو شخص اس طرح خدا کو پالے وہ پانے کے بعد ویسا نہیں رہ سکتا جیسا کہ وہ پانے سے پہلے تھا۔ خدا کو پانے کے بعد اس کے سارے وجود کے اندر بھونچال آ جاتا ہے۔ خوف کی شدت سے اس کی روح سہم اٹھتی ہے۔ اس کے ذہن سے تمام دوسرے مسائل حذف ہو جاتے ہیں۔ وہ صرف ایک ہی مسئلہ کو جانتا ہے اور وہ خدا کا مسئلہ ہے۔ خدا کا زندہ عقیدہ اور خدا کا خوف دونوں ناقابل تقسیم ہیں۔ آپ خدا کے زندہ عقیدہ سے خدا کے خوف کو الگ نہیں کر سکتے۔ جہاں یہ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوں وہاں سمجھ لیجیے کہ خدا کا زندہ عقیدہ نہیں بلکہ صرف تقلیدی عقیدہ ہے اور تقلیدی عقیدہ کی کوئی قیمت نہیں۔ عظمت خداوندی ہر ایک کے پاس اپنی عظمت کی داستانیں ہیں، خدا کی عظمت کی داستان کسی کے پاس نہیں۔ ایک آدمی اپنی محبوب شخصیت کے حق میں لمبا نثری قصیدہ پڑھے گا جس میں یہ خبر دی جائے گی ”آپ کی ذات گرامی کے آفتاب سے گوشے گوشے جگمگا رہے ہیں“۔ مگر طویل تحریر میں کہیں بھی یہ محسوس نہ ہوگا کہ کہنے اور سننے والے خدا کی عظمت و جلال کے احساس سے لرز رہے ہیں اور رب العالمین کے بے پایاں کرشموں کو دیکھ کر محویت ہیں۔ البتہ خاتمہ کلام پر یہ فقرہ ادا کر دیا جائے گا: و آخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين۔ کلام کے پورے مجموعہ میں دیکھیے تو عربی کا یہ فقرہ ایک بے جوڑ سا فقرہ معلوم ہوگا۔ جس کلام میں انسانی عظمت کے آبشار برسائے جا رہے ہوں وہاں ”تمام تعریف صرف اللہ کے لیے ہے“ کہنے کا کیا مقام۔ اس قسم کا فقرہ ہمیشہ رسمی ہوتا ہے نہ کہ حقیقی۔ انسان کی عظمت کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page