Urdu book · اللہ اکبر

عظمت خداوندی

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

طویل قصیدہ پڑھنے کے بعد یہ مختصر عربی فقرہ حقیقتہً اللہ کی حمد کے جذبے سے نہیں نکلتا بلکہ صرف تبرک یا رسم کی خانہ پرُی کے لیے ہوتا ہے۔ کسی دوسرے مذہب کا آدمی ہو اور وہ اپنی محبوب شخصیت کا قصیدہ پڑھے تو وہ اپنے کلام کے آخر میں اپنے مذہب اور روایات کے لحاظ سے کوئی فقرہ بول دے گا اور مسلمان اپنے مذہب اور روایات کے لحاظ سے۔ بظاہر دونوں ایک دوسرے سے مختلف معلوم ہوتے ہیں۔ ایک فقرہ ”اسلامی“ فقرہ ہے اور دوسرے کا ”غیر اسلامی“ فقرہ، مگر جس نفسیاتی حالت کے تحت یہ فقرے نکلے ہیں، اس کے اعتبار سے دونوں ایک ہیں۔ اندرونی کیفیت کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں ایک شخص اپنی روایتی تسکین کے لیے عربی فقرہ کا تلفظ کر رہا ہے، دوسرا کسی غیر عربی فقرہ کا۔ جو لوگ اپنے ان مشغلوں پر خوش ہیں اور ان کو کارنامہ سمجھتے ہیں وہ بہت جلد جان لیں گے کہ ان کی یہ سرگرمیاں خدا کی نظر میں اس سے بھی زیادہ بے قیمت تھیں جتنا کہ مٹی کے ڈھیر میں ایک چیونٹی کا رینگنا۔ یہ زمین کسی کے ”اکابر“ کی جلوہ گاہ نہیں۔ یہ خدا کی تجلیات کا ظہور ہے۔ جب بھی خدا کے سوا کسی اور کی تعریف اس زمین پر کی جاتی ہے تو وہ سب سے بڑا جھوٹ ہوتا ہے جو کوئی شخص بولتا ہے۔ انسانی عظمت کے قصیدے جب پڑھے جاتے ہیں تو زمین و آسمان کی ہر چیز پڑھنے اور سننے والوں پر لعنت بھیجتی ہے مگر جب خدا کی عظمت کا چرچا کیا جائے تو زمین و آسمان اس کے ہم آواز ہوجاتے ہیں۔ انسانی عظمت کے قصیدے جھوٹی زبانوں سے نکلتے ہیں اور جھوٹے کانوں سے سنے جاتے ہیں۔ مگر جب کسی کو خدا کی عظمت بیان کرنے کی توفیق ملتی ہے تو یہ ایک ملکوتی کلام ہوتا ہے جو فرشتوں کے ہم نشینی سے کسی کی زبان سے ابلتا ہے۔ جو لوگ کسی انسان کی عظمت سے مسحور ہوں وہ اس کی شان میں الفاظ کے دریا بہاتے ہیں جب کہ خدا کی عظمت سے مسحور ہونے والے شخص پر چپ لگ جاتی ہے۔ انسانی عظمت کے چرچے پررونق مجلسوں اور عمدہ چھپے ہوئے کاغذوں میں ہوتے ہیں اور اللہ کی عظمت کا چرچا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page