Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 49

By Maulana Wahiduddin Khan

”ایمان“ کسی آدمی کے اندر اسی خلا کو پُر کرتا ہے۔ وہ آدمی کو کائنات کے بھیدوں کا رازداں بناتا ہے۔ مومن ایک قسم کا سائنس داں ہے۔ سائنس داں بکھرے ہوئے گہروں میں نظامِ شمسی کا پتا لگاتا ہے وہ مادہ کے اندر چھپی ہوئی توانائی کو دریافت کرتا ہے۔ وہ غیر متحرک دھات میں متحرک مشین کو دیکھ لیتا ہے۔ اسی طرح مومن عالَمِ ظاہر میں عالَمِ غائب (غیب) کو دیکھ لیتا ہے۔ وہ مخلوقات میں اس کے خالق کو پالِیتا ہے۔ وہ نظم کو دیکھ کر اس کے ناظم کا پتا لگا لیتا ہے۔ ایمان جب اپنی آخری انتہا کو پہنچتا ہے تو وہ دعوت بن جاتا ہے۔ دعوت دوسرے لفظوں میں کائنات کے غیر ملفوظ نغمہ کو الفاظ کی صورت دینا ہے۔ داعی خدا کی خاموش نشریات کو با آوازِ اعلان میں منتقل کرتا ہے۔ وہ خدائی پیغام کو سُن کر اسے انسانوں تک پہنچاتا ہے دعوتِ خدا کی دنیا میں خدا کی نمائندگی ہے۔ تقویٰ کیا ہے ہٹلر کی حکومت کے زمانہ میں جرمنی میں جب یہودی پکڑے جانے لگے تو وہاں بہت لطیفے مشہور ہوئے۔ ایک لطیفہ یہ تھا کہ شہر کی ایک سڑک پر ایک یہودی بھاگا جا رہا تھا۔ دوسرے یہودی نے اس کو دیکھ کر پوچھا کہ تم کیوں بھاگ رہے ہو۔ اس نے کہا: ”تم بھی بھاگو“ اس نے دوبارہ پوچھا ”آخر کیوں“ بھاگنے والے یہودی نے جواب دیا: ”چڑیا گھر سے ایک بھیڑیا بھاگ نکلا ہے اور اس کو گولی مارنے کا حکم ہوا ہے۔ دوسرے یہودی نے حیران ہو کر کہا: ہم کو کیا ڈر ہے، ہم بھیڑے تو نہیں ہیں، پھر ہم کیوں بھاگیں“۔ پہلے یہودی نے جواب دیا: ہاں ہم بھیڑیے نہیں ہیں۔ مگر کیا ہم اس کو ثابت کر سکتے ہیں۔ اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ ڈر کی نفسیات سے جو انسان بنتا ہے وہ کیسا انسان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page