تقویٰ کیا ہے
Urdu book, p. 50
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوتا ہے۔ وہ مسئلہ کو اپنا مسئلہ سمجھتا ہے۔ کیوں کہ اس کو ڈر رہتا ہے کہ اس کی وجہ سے کہیں میں نہ پکڑلیا جاؤں۔ کسی سے ڈرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی اس کے مقابلہ میں اپنے کو کمزور پارہا ہے۔ وہ فیصلہ کا سرا دوسرے کے ہاتھ میں سمجھتا ہے۔ اور جب بھی فیصلہ کا سرا دوسرے کے ہاتھ میں ہو تو لازماً ایسا ہوگا کہ آدمی اندیشہ میں مبتلا رہے گا۔ اس کو یہ ڈر لگا رہے گا کہ کہیں میں ہی مجرم نہ قرار دے دیا جاؤں۔ ایک بکری جو مجھ سے بہت دور فرات کے کنارے مری ہو، اگر اس کے مرنے کی ذمہ داری مجھ پر ڈال دی جائے تو میرے پاس کیا جواب ہوگا۔ اور میں کس طرح اپنے کو بری الذمہ ثابت کر سکوں گا۔ اللہ تمام طاقتوں سے بڑھ کر طاقت ور ہے۔ تمام فیصلوں کا سرا اسی کے ہاتھ میں ہے۔ ایسی حالت میں جو شخص اللہ کو پالے وہ اس کی طرف سے مستقل اندیشہ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ہر معاملہ میں وہ سوچنے لگتا ہے کہ خدا کی عدالت میں کہیں مجھ کو اس کا ذمہ دار نہ قرار دے دیا جائے۔ اپنے کو بچانے کا جذبہ اس کو مجبور کرتا ہے کہ لوگوں سے معاملہ کرنے میں وہ حد درجہ محتاط رہے، لوگوں کے ساتھ وہ ہمیشہ فیاضی کا سلوک کرے، وہ لوگوں کے حق سے زیادہ انہیں دے۔ اس کا کوئی ساتھی یا اس کا ماتحت اگر کوئی غلط کام کرتا ہے تو اس کا خطرہ وہ اپنے اوپر محسوس کرتا ہے، کیونکہ وہ سوچتا ہے کہ خدا اگر قیامت میں کہہ دے کہ تمہاری وجہ سے اس کو یہ جرأت ہوئی تو میرے پاس کیا عذر ہوگا۔ اس کی لاعلمی میں ظلم کا ایک واقعہ بھی ہو تو وہ کانپ جاتا ہے کہ اگر خدا کے یہاں یہ کہا جائے کہ تم عوامی قائد بنے ہوئے تھے تو تم اس سے باخبر کیوں نہ ہوئے تو میں خدا کو کیا جواب دوں گا۔ اس کے دائرہ میں کوئی شخص کسی کو ستاتا ہے تو وہ بے تاب ہو جاتا ہے کیوں کہ وہ ڈر جاتا ہے اگر خدا یہ کہے کہ تم نے اپنی کارروائیوں سے جو ماحول بنایا یا اس کی وجہ سے ایسا واقعہ ممکن ہو سکتا تو میں کس طرح اپنے کو بری الذمہ ثابت کروں گا۔ کوئی شخص اس کو مدد کے لیے پکارتا ہے اور وہ ایک عذر کرکے آگے بڑھ جاتا ہے تو وہ لرز اٹھتا ہے۔ کیوں کہ یہ احساس اس کو پریشان کر دیتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader