اللہ اکبر
Urdu book, p. 51
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ قیامت میں اگر خدا یہ کہہ دے کہ تم نے اپنے جس کام کو عذر بنایا اس سے زیادہ ضروری یہ تھا کہ تم اس کو چھوڑ کر میرے بندے کا ساتھ دیتے تو میں کیا کہہ کر چھوٹ سکوں گا۔ خرابی کی جڑ ہر آدمی حق کا نام لیتا ہے، اس کے باوجود دنیا میں ہر طرف بگاڑ کیوں ہے۔ اس کی وجہ قرآن کے لفظوں میں الحاد (انحراف) ہے۔ یعنی بات کو صحیح رخ سے غلط رخ کی طرف موڑ دینا۔ الحاد کی ایک صورت جو موجودہ زمانہ میں بہت زیادہ رائج ہے، وہ ہے۔ انفرادی حکم کا رخ اجتماعیات کی طرف کر دینا۔ جس حکم کا خطاب آدمی کی اپنی ذات سے ہے اس کا مخاطب دوسروں کو بنا دینا۔ مثلاً قرآن میں ہے کہ : وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ۔ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ (4: 3-74) یعنی، اپنے رب کی بڑائی کرا اور اپنے اخلاق کو پاک کر۔ اس آیت میں اگر وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ کو وَثِيَابَ غَيْرَكَ فَطَهِّر (اور دوسروں کے اخلاق کو پاک کر) کے معنی میں لے لیا جائے تو سارا معاملہ الٹ جائے گا۔ جو آیت ذاتی اصلاح کا سبق دے رہی ہے وہ صرف دوسروں کے خلاف اکھاڑ پچھاڑ کے ہم معنی بن کر رہ جائے گی۔ اسی طرح تمام احکام کا حال ہے۔ ہر حکم جو خدا کی طرف سے دیا گیا ہے اس کا سب سے پہلا خطاب آدمی کی اپنی ذات سے ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے انقلابی دینداروں نے تمام احکام کا رخ دوسروں کی طرف کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دین ومذہب کے نام پر بے شمار ہنگاموں کے باوجود کوئی اصلاح نہیں ہوتی۔ ہر قسم کی اصلاح اور ہر قسم کے بگاڑ کا خلاصہ دو لفظ میں یہ ہے : 1۔ خدا بڑا ہے، اس لیے میں بڑا نہیں ہوں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader