اللہ اکبر
Urdu book, p. 53
By Maulana Wahiduddin Khan
کسی شخص کے سامنے اس کے جماعتی اکابر کا نام لے لیجیے۔ اچانک الفاظ کا دریا اس کی زبان سے بہہ پڑے گا۔ وہ اس وقت تک چپ نہ ہوگا جب تک آپ مداخلت کر کے موضوع کو بدل نہ دیں۔ مگر اسی شخص کے سامنے خدا کا نام لیجیے تو اس کے اندر کوئی جوش پیدا نہ ہوگا۔ ایسا معلوم ہوگا جیسے اس کے پاس خدا کے بارے میں بولنے کے لیے کوئی چیز ہی نہیں۔ ایک شخص کے سامنے اس کے قومی ہیرو کا چرچا کر دیجیے اور پھر آپ دیکھیں گے کہ اچانک وہ بادشاہ سخن بن کر ظاہر ہو گیا ہے۔ مگر اس کے سامنے خدا کا چرچا کیجیے تو وہ ایسا نظر آئے گا جیسے کہ اس کے اندر خدا کا نام سن کر کوئی ہلچل ہی پیدا نہیں ہوئی جو اس کو بولنے پر مجبور کر دے۔ آہ وہ لوگ جن کے پاس رجال کی تعریف کے لیے الفاظ ہوں مگر خدا کی تعریف کے لیے ان کے پاس الفاظ نہ ہوں۔ انسانوں کے بارے میں وہ معلومات کا خزانہ بنے ہوئے ہوں مگر خدا کے بارے میں ان کے پاس کوئی معلومات نہیں جو ان کے زبان یا قلم سے جاری ہو۔ کیا سینوں میں ایمان کے سوتے خشک ہو گئے۔ کیا لوگوں نے خدا کی عظمت کو محسوس نہیں کیا جس کو وہ لوگوں سے بیان کریں۔ کیا لوگوں کو خدا کے کمالات کا کوئی مشاہدہ نہیں ہوا۔ کیا انہیں صرف مخلوقات کی خبر ہے، خدا وند ذالجلال کی انہیں کوئی خبر نہیں۔ تضاد ختم ہو گیا میں آبادی سے دور ایک پہاڑ کے کنارے کھڑا تھا۔ سرسبز درخت میرے سامنے پھیلے ہوئے تھے۔ چڑیوں کی بولیاں کانوں میں آ رہی تھیں۔ مختلف قسم کے جانور چلتے پھرتے نظر آتے تھے۔ یہ دیکھ کر میرے اوپر عجیب تاثر ہوا۔ کیسا عظیم اور کیسا کامل ہوگا وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader