تضاد ختم ہو گیا
Urdu book, p. 54
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا جس نے اتنی بڑی دنیا بنائی اور پھر اس کو مجبور کر دیا کہ وہ اس کے بتائے ہوئے نقشہ کے انتہائی پابند رہتے ہوئے حرکت کرے۔ کتنی حسین اور کتنی معصوم ہے یہ دنیا۔ یہاں چڑیاں وہی آوازیں نکالتی ہیں جو ان کے خالق نے انہیں سکھایا ہے۔ یہاں بلی اور بکری بالکل اسی طرح اپنا اپنا رزق کھاتے ہیں جو پیدائشی طور پر ان کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے۔ یہاں درخت عین اسی منصوبہ کے مطابق اگتے اور بڑھتے ہیں جو ازل سے ان کے مالک نے ان کے لیے متعین کر دیا ہے۔ یہاں دریا ٹھیک اسی قانون کے مطابق رواں ہوتا ہے جو اس کے لیے ابدی طور پر مقدر ہے۔ خدا کی کائنات انتہائی کامل مجموعہ ہے اور یہاں کی ہر چیز ادنیٰ انحراف کے بغیر عین اسی طرح عمل کرتی ہے جس کا حکم اس کے خدا نے اسے دے رکھا ہے۔ مگر انسان کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ وہ اپنے منہ سے ایسی آوازیں نکالتا ہے جس کی اجازت اس کے خدا نے اسے نہیں دی۔ وہ ایسی چیزوں کو اپنا رزق بناتا ہے جس سے اس کے مالک نے اس کو روک رکھا ہے۔ وہ اپنے سفر حیات کے لیے ایسے راستے اختیار کرتا ہے جہاں کا تب ازل نے پیشگی طور پر اس کے لیے لکھ دیا ہے کہ ”یہاں سے گزرنا منع ہے“۔ انسان خدا کی کائنات کا بہت چھوٹا حصہ ہے۔ مگر وہ عظیم کائنات کے مجموعی نظام سے بغاو ت کرتا ہے، وہ خدا کی اصلاح یافتہ دنیا میں فساد برپا کرتا ہے۔ یہ خدا کی بے تضاد دنیا میں تضاد کو دخل دینا ہے۔ یہ ایک ہم آہنگ مجموعہ میں بے آہنگی کا جوڑ لگانا ہے۔ یہ ایک حسین تصویر میں بدصورتی کا دھبہ ڈالنا ہے۔ یہ ایک کامل دنیا میں ناقص چیز کا اضافہ کرنا ہے۔ یہ فرشتوں کی سرگرمیوں کے ماحول میں شیطان کو سرگرم ہونے کا موقع دینا ہے۔ خدا کی قدرت اور اس کے حسن ذوق کا ثبوت جو عظیم تر کائنات میں ہر لمحہ نظر آتا ہے وہ اس گمان کی تردید کرتا ہے کہ یہ صورت حال اسی طرح باقی رہے۔ خدا کی قدرت یقیناً اس ظلم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader