اللہ اکبر
Urdu book, p. 55
By Maulana Wahiduddin Khan
کی اجازت نہیں دے سکتی۔ خدا کا حسن ذوق ہرگز اس کو برداشت نہیں کر سکتا۔ ضروری ہے کہ وہ دن آئے جب کائنات کا یہ تضاد ختم ہو، خدا کی مرضی انسانی دنیا میں بھی اسی طرح پوری ہونے لگے جس طرح وہ بقیہ دنیا میں پوری ہو رہی ہے۔ خدا کی نشانیاں میکسویل (1879-1831ء) وہ شخص ہے جس نے فطرت میں برقی مقناطیسی تعامل کے قوانین کو انتہائی کامیابی کے ساتھ ریاضیاتی مساوات میں بیان کیا۔ کہا جاتا ہے کہ جب عظیم جرمن سائنسداں بولٹنر مین (1906-1844) نے اس کو دیکھا تو اس نے تعجب کے ساتھ کہا کہ کون وہ خدا ہے جس نے یہ نشانیاں لکھ دیں: Maxwell put the laws of electromagnetic interactions into equations so marvellous that when the great German physicist, Boltzmann, saw them he exclaimed, Who was the God who wrote these signs? کائنات کا مطالعہ کرنے والے کے لیے سب سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ ہر مطالعہ بالآخر ایک ایسی چیز پر ختم ہوتا ہے جو انتہائی پر اسرار طور پر حکیمانہ ہوتی ہے۔ کائنات اپنے آخری مطالعہ میں ایک حد درجہ منظم واقعہ ہے نہ کہ کوئی بے ترتیب انبار۔ یہ حقیقت ہر واقف کار کو یہ ماننے پر مجبور کرتی ہے کہ کائناتاتی واقعات کے پیچھے کوئی برتر ذہن کام کر رہا ہے۔ آئن سٹائن (1955-1879) ایک خالص سائنسی مزاج کا آدمی تھا۔ تا ہم اس نے اقرار کیا ہے کہ میں طبیعیات داں سے زیادہ ایک فلسفی ہوں۔ کیونکہ میرا یقین ہے کہ ہمارے باہر بھی ایک حقیقت ہے:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader