قدرتی مناظر
Urdu book, p. 57
By Maulana Wahiduddin Khan
پہلے جیسا پونہ نہیں ہے۔ اب وہ پونہ کہا جاتا ہے۔ اس کی آبادی دس گنا بڑھ گئی ہے۔ نئی نئی سڑکیں اور روشنیوں کے انتظام نے اس علاقہ میں قدرتی مناظر سے زیادہ مشینی مناظر کا ماحول پیدا کر دیا ہے یہ سن کر اچانک اس انگریز کا سارا شوق ختم ہو گیا۔ اس نے کہا: NO. I don't think I will go to India My India probably does not exist نہیں، میں نہیں سمجھتا کہ مجھے انڈیا جانا چاہیے۔ میرا انڈیا اب غالباً موجود نہیں (ٹائمز آف انڈیا، 3 فروری 1984)۔ مشینی مناظر دیکھنے سے انسان "یاد آتا ہے اور قدرتی مناظر کو دیکھنے سے "خدا" یاد آتا ہے۔ مشینی مناظر میں انسان کی کاریگری کا دھیان آتا ہے اور قدرتی مناظر میں خدا کی کاریگری کا۔ مشینی مناظر انسان کو انسان سے ملاتے ہیں اور قدرتی مناظر انسان کو خدا سے ملاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مشینی مناظر میں انسان کو وہ سکون نہیں ملتا جو قدرتی مناظر میں اس کو ملتا ہے۔ الا بِذِکرِ اللهِ تَطْمَئِنَّ الْقُلُوبُ (13:28) ۔ سنو، اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ قدرتی مناظر کیا ہیں۔ وہ خدا کی صفات کا آئینہ ہیں۔ آسمان کی وسعت خدا کی بے پایاں ہستی کا تعارف ہے۔ سورج خدا کے سراپا نور ہونے کا اعلان کر رہا ہے۔ دریا کی روانی خدا کے جوش رحمت کی گویا ایک تمثیل ہے۔ پھولوں کی مہک اور خوبصورتی خدا کے حسن کی ایک دور کی جھلک ہے۔ اگر دیکھنے والی آنکھ ہو تو اس کو قدرتی مناظر میں خدا کا جلوہ دکھائی دے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader