Urdu book · اللہ اکبر

شناختی کارڈ کے بغیر

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

شناختي کارڈ کے بغیر دیہات کا ایک لڑکا شہر آیا۔ سڑک پر چلتے ہوئے وہ ایک اسکول کی عمارت کے سامنے سے گزرا۔ یہ اسکول کے جشن کا دن تھا۔ سیکڑوں لڑکے ایک کھڑکی کے سامنے لائن لگائے ہوئے تھے۔ دیہاتی لڑکے نے قریب جا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس کھڑکی کی پر مٹھائی تقسیم ہورہی ہے۔ اور ہر ایک اس کو لے کر باہر آرہا ہے۔ دیہاتی لڑکا بھی لائن میں شامل ہو کر کھڑا ہوگیا۔ وہ لائن کے ساتھ آگے بڑھتا رہا۔ وہ سمجھتا تھا کہ جب میری باری آئے گی تو مٹھائی کا پیکٹ اسی طرح میرے ہاتھ میں بھی ہوگا جس طرح وہ دوسروں کے ہاتھ میں دکھائی دے رہا ہے۔ لائن ایک کے بعد ایک آگے بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ دیہاتی لڑکا کھڑکی کے سامنے پہنچ گیا۔ اس نے خوش خوش اپنا ہاتھ کھڑکی کی طرف بڑھایا۔ اتنے میں کھڑکی کے پیچھے سے آواز آئی "تمہارا شناختی کارڈ"۔ لڑکے کے پاس کوئی کارڈ نہ تھا۔ وہ کارڈ پیش نہ کرسکا۔ چنانچہ وہ کھڑکی سے ہٹا دیا گیا۔ اب لڑکے کو معلوم ہوا کہ یہ مٹھائی ان لوگوں کو تقسیم ہورہی تھی جو سال بھر اسکول کے طالب علم تھے نہ کہ کسی ایسے شخص کے لیے جو اچانک کہیں سے آ کر کھڑکی پر کھڑا ہو گیا ہو۔ ایسا ہی کچھ معاملہ آخرت میں پیش آنے والا ہے۔ آخرت کا دن خدائی فیصلہ کا دن ہے۔ اس دن سارے لوگ خدا کے یہاں جمع کیے جائیں گے۔ وہاں لوگوں کو انعامات تقسیم ہورہے ہوں گے۔ مگر پانے والے صرف وہ ہوں گے جنھوں نے اس دن کے آنے سے پہلے پانے کا استحقاق پیدا کیا ہو، جو اپنا شناختی کارڈ" لے کر وہاں حاضر ہوئے ہوں۔ وہ وقت آنے والا ہے جب کسی آنکھ کے لیے سب سے زیادہ پر کیف منظر یہ ہوگا کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page