Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 59

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ اپنے رب کو دیکھے۔ کسی ہاتھ کے لیے سب سے زیادہ لذید تجربہ یہ ہوگا کہ وہ اپنے رب کو چھوئے۔ کسی سر کے لیے سب سے زیادہ عزت اور فخر کی بات یہ ہوگی کہ وہ اس کو رب العالمين کے آگے جھکا دے۔ مگر یہ سب کچھ صرف ان لوگوں کے لیے ہوگا جنھوں نے اس دن کے آنے سے پہلے اپنے خدا کی نظر عنایت کا مستحق ثابت کیا ہو۔ بقیہ لوگوں کے لیے ان کی غفلت ان کے اور ان کے خدا کے درمیان حائل ہو جائے گی۔ وہ خدا کی دنیا میں پہنچ کر بھی خدا کو نہ دیکھیں گے۔ وہ پانے والے دن بھی اپنے لیے کچھ پانے سے محروم رہیں گے۔ جب پردہ اٹھے گا امریکی صدر رونالڈ ریگن (2004-1911) 30 مارچ 1981 کو پر اعتماد چہرہ کے ساتھ اپنے صدارتی محل (وھائٹ ہاؤس) سے نکلے۔ کاروں کا قافلہ ان کو لے کر واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل کی طرف روانہ ہوا۔ پروگرام کے مطابق انھوں نے ہوٹل کے شان دار ہال میں ایک تقریر کی۔ تحسین و آفریں کی فضا میں ان کی تقریر ختم ہوئی۔ وہ آدمیوں کے ہجوم میں ہنستے ہوئے چہرہ کے ساتھ باہر آئے۔ وہ اپنی بلیٹ پروف لیموزین (کار) سے صرف چند قدم کے فاصلہ پر تھے کہ اچانک باہر کھڑے ہوئے مجمع کی طرف سے گولیوں کی آوازیں آنے لگیں۔ ایک نوجوان جان ہنکلے نے دوسیکنڈ کے اندر چھ فائر کیے۔ ایک گولی مسٹر ریگن کے سینہ پر لگی۔ وہ خون میں لت پت ہو گئے اور فوراً اسپتال پہنچائے گئے۔ اچانک گولی لگنے کے بعد صدر امریکا کا جو حال ہوا وہ اے پی کا رپورٹر ان الفاظ میں بیان کرتا ہے : Mr. Reagan appeared stunned. The smile faded from his lips.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page