Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 69

By Maulana Wahiduddin Khan

بھی زیادہ اونچی لہروں نے جزائر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ تقریباً ایک لاکھ انسان اس کے آگے بے بس ہو کر ہلاک ہو گئے۔ سیکڑوں بستیاں تنکوں کی طرح طوفانی لہروں میں بہہ گئیں ۔ ایک اخبار کے رپورٹر نے اپنا عینی مشاہدہ ان الفاظ میں بیان کیا: Urtir Char....looks like it has been bombed relentlessly. Not a single structure, save the concrete forest office stands erect. In fact so fierce has been the force of the gale and tidal waves that not only the houses, but even the building materials were washed away, leaving behind just mounds. ایک انگریزی اخبار (29 مئی 1985) نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ مہلک طوفان جو قدرت کے غصہ کے سامنے انسان کی بے چارگی کو بے نقاب کرتا ہے : - murderous cyclones which expose man's helplessness before nature's fury. حادثات انسان کو حقیقت واقعہ کی یاد دلاتے ہیں۔ وہ خدا کی قدرت اور انسان کے عجز کا واقعاتی اعلان ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ خدا کل کے دن انسان کو پکڑے گا جس طرح آج اس نے انسان کو پکڑا ہے۔ موجودہ عارضی دنیا میں انسان اپنے عجز کو بھگتتا ہے۔ کیسا عجیب ہوگا انسان کا حال اگر وہ آخرت کی ابدی دنیا میں اپنے گناہ کو بھگتے۔ انسان کی تلاش فلپ جان بائر (1781-1717) امریکا کا ایک بڑا تاجر تھا۔ وہ کویکر اسٹیٹ ریفائننگ کمپنی (Quaker State Refining Co) کا بانی تھا۔ اس کے یہاں صرف ایک لڑکا تھا۔ لڑکا مرا تو اس نے بھی صرف ایک لڑکی چھوڑی جس کا نام الینز رٹشی (Eleanor Ritchey) تھا۔ الینز رٹشی کے پاس بے پناہ دولت تھی مگر وہ انسانوں سے اس قدر متنفر تھی کہ اس نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page