انسان کی تلاش
Urdu book, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
شادی نہیں کی اور تمام عمر اکیلی رہی۔ 14 اکتوبر 1968ء کو اس کا انتقال ہوا تو اس کی عمر 58 سال تھی۔ انسانوں سے بے رغبت ہو کر اس نے اپنی دل چسپی کے لیے عجیب و غریب عادتیں بنا رکھی تھیں۔ مثلاً وہ کثرت سے جوتے خریدتی۔ مگر ہر جوتے کو وہ صرف ایک بار پہنتی تھی ۔ چنانچہ اس کی موت کے بعد اس کے گھر میں 1706 جوڑے موجود تھے۔ اسی طرح اس کے گھر میں اسٹیشنری کے 1344 بکس پائے گئے۔ وغیرہ اس کی سب سے عجیب دل چسپی کتے تھے۔ وہ جب اپنی کار سے باہر نکلتی اور کوئی آوارہ کتا اس کو نظر آتا تو وہ پکڑوا کر اس کو اپنے گھر لاتی اور ان کو خصوصی اہتمام سے پالتی۔ اس طرح اس کے یہاں 150 کتے جمع ہو گئے۔ اس کا گھر کتوں کی اس فوج کے لیے ناکافی معلوم ہوا تو اس نے اولاً بارہ ایکڑ اور اس کے بعد 180 ایکڑ زمین صرف اس لیے خریدی کہ وہاں کتوں کو خصوصی اہتمام کے ساتھ رکھنے کا انتظام کیا جاسکے۔ الینر رُٹشی نے موت سے پہلے ایک وصیت نامہ تیار کرایا۔ اس وصیت میں اس نے لکھا کہ میری دولت میرے پالتو کتوں کے لیے وقف ہے۔ جب ایک ایک کرکے تمام کتے مر جائیں تو میری پوری دولت الباما (امریکہ) کے مدرسہ حیوانات ( School of Veterinary Science) کو دے دی جائے۔ اب اس کے کتوں میں صرف آخری کتا رہ گیا ہے جس کا نام مسکثیر (Musketeer) ہے۔ یہ 23 سالہ کتا اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ جب وہ چلتا ہے تو اس کا پاؤں کانپتا ہے اور جب وہ چھینکتا ہے تو زمین پر گر پڑتا ہے۔ یقینی طور پر وہ بہت جلد مر جائے گا۔ اس کے بعد مذکورہ مدرسہ حیوانات کو بارہ ملین ڈالر کی رقم اچانک حاصل ہو جائے گی (ٹائمز آف انڈیا، آدمی کو اگر آئیڈیل انسان نہ ملے تو اس کو آئیڈیل نظریہ تلاش کرنا چاہیے۔ الینر رُٹشی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader