اللہ اکبر
Urdu book, p. 71
By Maulana Wahiduddin Khan
اگر ایسا نظریہ پالیتی تو انسان اس کے لیے محبت کا موضوع بن جاتا نہ کہ نفرت کا موضوع۔ انسان کی کمائی وَيَوْمَ يُعْرَضُ الَّذِينَ كَفَرُوا عَلَى النَّارِ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُم بِهَا فَالْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنتُمْ تَفْسُقُونَ (46:20) یعنی، اور جس دن انکار کرنے والے لوگ آگ کے سامنے لائے جائیں گے۔ تم اپنی اچھی چیزیں دنیا کی زندگی میں لے چکے اور ان کو برت چکے تو آج تم ذلت کا عذاب بدلے میں پاؤ گے اس وجہ سے کہ تم دنیا میں ناحق گھمنڈ کرتے تھے اور اس وجہ سے کہ تم نافرمانی کرتے تھے۔ دنیا میں آدمی کو جو اسباب ملتے ہیں۔ مثلاً جسمانی طاقت، ذہانت، مال۔ عہدہ، وسائل اور مواقع یہ سب خدا کی طرف سے ہوتے ہیں۔ وہ اس لیے دئے جاتے ہیں کہ ان سے آدمی اپنے لیے کمائی کرے۔ اس کمائی سے مراد نفسیاتی کمائی ہے اور اس کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جس کو آیت میں کبر اور فسق کہا گیا ہے۔ دوسری کمائی وہ ہے جو اس کے برعکس ہے۔ یعنی تواضع اور شکر۔ آدمی اگر ان اسباب کو پا کر گھمنڈ میں مبتلا ہو جائے ۔ وہ ان کو ذاتی برتری حاصل کرنے کے لیے استعمال کرے۔ وہ ان کو شہرت اور لیڈری حاصل کرنے کا ذریعہ بنائے۔ تو گویا کہ اس نے اپنے مواقع کو ضائع کر دیا۔ اس کو جو سامانِ عمل دیا گیا تھا، اس کا انجام اس نے اسی آج کی دنیا میں لے لیا۔ ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔ دوسرا آدمی وہ ہے جس کو اسباب حیات ملے تو اس نے ان کو خدائی چیز سمجھ کر اپنے عجز کا اقرار کیا۔ اس نے ان کو خدا کا عطیہ مان کر خدا کا شکر ادا کیا۔ اس نے ان اسباب کو اپنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader