Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 72

By Maulana Wahiduddin Khan

ذات کے راستہ میں استعمال کرنے کے بجائے خدا کے راستہ میں استعمال کیا۔ یہ شخص وہ ہے جس نے ان مواقع کے ذریعہ آگے کا ذخیرہ فراہم کیا۔ اس نے اپنے دینی سامان کے ذریعہ آخرت کی کمائی کی ۔ ایسا شخص موت کے بعد اپنے بہترین ذخیرہ کو پائے گا۔ اس کی کمائی جنت کے ابدی باغوں کی صورت میں اُس کی طرف لوٹادی جائے گی ۔ موجودہ زندگی میں ہر آدمی کو یکساں طور پر مواقع دیے گئے ہیں ۔ کوئی ان مواقع سے طیّبات دنیا کما رہا ہے اور کوئی طیّبات آخرت ۔ کچھ سے کچھ دیوی سنگھ ایک مشہور ڈاکو تھا جو جنوری 1984 ء میں پولیس کے ساتھ ایک مقابلہ میں مارا گیا۔ مسز امرت پریتم کی ایک اتفاقی ملاقات مذکورہ ڈاکو سے سیور اگاؤں میں ہوئی۔ اس موقع پر دونوں کے درمیان جو بات چیت ہوئی اس کی دل چسپ رو داد ہندستان ٹائمس (22 جنوری 1984) میں شائع ہوئی ہے۔ دیوی سنگھ نے بتایا کہ میں نے اب تک تقریباً ایک سوڈا کے ڈالے ہیں۔ ہم لوگ ڈاکو نہیں ہیں بلکہ حکومت کے باغی ہیں۔ ہم مال لوٹتے ہیں مگر ہم نے آج تک کسی لڑکی کی عصمت نہیں لوٹی ۔ ہمارا ایک سخت قسم کا اخلاقی اصول ہے ۔ ہمارا کوئی آدمی اس کے خلاف کرے تو ہم فوراً اس کو گولی مار دیتے ہیں ۔ امرت پریتم نے کہا کہ دیوی سنگھ جی ، یہ بتائیے کہ آپ کی ٹولی (گینگ) میں کل کتنے آدمی ہیں ، دیوی سنگھ نے کہا کہ سات آدمی ، اور آٹھواں خدا: Seven men, and the eighth God. بظاہر یہ جملہ، معمولی فرق کے ساتھ، قرآن کی اس آیت کا ترجمہ معلوم ہوتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تم میں سے پانچ آدمی جہاں ہوتے ہیں وہاں چھٹا خدا ہوتا ہے (المجادلہ ،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page