اللہ اکبر
Urdu book, p. 78
By Maulana Wahiduddin Khan
کو بتا رہا ہے کہ وہ کس طرح رہیں اور کس طرح نہ رہیں۔ کون سا انسان خدا کے یہاں قابل قبول ٹھہرے گا اور کون سا انسان خدا کے یہاں رد کر دیا جائے گا۔ ایک درخت اور کائنات کی مثال لیجیے۔ کائنات میں حرارت ہے۔ کشش ہے۔ ہوا ہے، پانی ہے۔ ان میں سے ہر چیز درخت کی ضرورت کے عین مطابق ہے۔ بیکٹیریا سے لے کر سورج تک تمام چیزیں درخت کے لیے گویا کائناتی دسترخوان ہیں۔ ہر چیز درخت کو عین وہی چیز دے رہی ہے جو اس کی فطرت کے مطابق اسے ملنا چاہیے۔ دوسری طرف ایک درخت کا معاملہ بھی یہی ہے۔ درخت اس دنیا کی کسی چیز سے ٹکرائے بغیر اپنا ارتقائی سفر طے کرتا ہے۔ اس کی لکڑی، اس کی پتی، اس کا پھول، اس کا پھل، غرض اس کی چیز بقیہ دنیا کے لیے عین کارآمد ہے۔ حتیٰ کہ اس کا کاربن لینا اور آکسیجن نکالنا بھی عین خارجی دنیا کے تقاضوں کے مطابق ہے - جزء اور کل یا فرد اور اجتماع کے درمیان یہی کامل مطابقت انسان سے بھی مطلوب ہے۔ اس کے سوا انسان کی کامیابی کا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ ضمیر کے خلاف مشہور انگریز مورخ آرنلڈ ٹائن بی (1975-1889) نے اپنی آخر عمر میں ایک بار کہا کہ فلسطین پر یہودیوں کا بطور تاریخی وطن اپنا حق جتانا ایسا ہی ہے جیسے ریڈ انڈین قبائل کناڈا کی واپسی کا مطالبہ کریں۔ یہودیوں نے نازیوں کے ظلم پر بے شمار کتابیں لکھی ہیں مگر خود یہودی فلسطینی عربوں کے ساتھ جو وحشیانہ سلوک کر رہے ہیں وہ بالکل اسی قسم کا ہے جو نازیوں نے یہودیوں کے ساتھ کیا تھا۔ ٹائن بی نے اپنا یہ بیان کناڈا میں دیا تھا۔ اس وقت کناڈا میں حکومت اسرائیل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader