ضمیر کے خلاف
Urdu book, p. 79
By Maulana Wahiduddin Khan
کے سفیر مسٹر ہرزگ (1972-1921) تھے۔ مسٹر ہرزگ نے برطانوی مورخ کو دعوت دی کہ اس مسئلہ پر وہ اس سے مباحثہ کریں۔ آرنلڈ ٹائن بی نے اس کو قبول کر لیا۔ اس کے بعد مانٹریل کی میک گل یونیورسٹی میں ایک تقریب ہوئی جس میں دونوں جمع ہوئے۔ مسٹر ہرزگ نے کہا: جرمن نازیوں نے ساٹھ لاکھ یہودیوں کو مار ڈالا تھا۔ اس کے مقابلہ میں فلسطین میں جو عرب بے گھر ہوئے ہیں ان کی تعداد بہت معمولی ہے۔ ان دونوں کو ایک جیسا کس طرح کہا جاسکتا ہے۔ آرنلڈ ٹائن بی نے جواب دیا کہ میں نے جب نازیوں اور اسرائیلیوں کے مظالم کو ایک جیسا کہا تھا تو اس سے مراد تعداد نہیں بلکہ جرم کی نوعیت تھی۔ کسی شخص کے لیے سو فیصد سے زیادہ برا ہونا ممکن نہیں۔ قاتل کہلانے کے لیے ایک شخص کو قتل کر دینا کافی ہے۔ میں حیران ہوں کہ آپ لوگ میرے الفاظ پر کیوں اس قدر بوکھلا اٹھے ہیں۔ میں نے وہی بات کہی ہے جو تم میں سے ہر ایک کا ضمیر کہہ رہا ہے۔ جب بھی آدمی کسی سچائی کی تردید کرتا ہے تو سب سے پہلے وہ خود اپنی تردید کر رہا ہوتا ہے۔ سچائی ہمیشہ آدمی کے اپنے دل کی آواز ہوتی ہے مگر آدمی ضد، تعصب اور اپنی جھوٹی بڑائی کو قائم رکھنے کی خاطر اس کو نہیں مانتا، وہ اپنے انکار کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے ایسے الفاظ بولتا ہے جن کے بارے میں خود اس کا دل گواہی دے رہا ہوتا ہے کہ ان میں کوئی وزن نہیں۔ آدمی کی سب سے بڑی محرومی یہ ہے کہ وہ اپنے ضمیر کا ساتھ نہ دے سکے۔ ضد اور تعصب اور مصلحت سے مغلوب ہو کر وہ ایسے رخ پر چلنے لگے جس کے متعلق اس کا اندرونی ضمیر آواز دے رہا ہو کہ وہ صحیح رخ نہیں ہے۔ یہ اپنی تردید آپ کرنا ہے۔ یہ اپنے آپ کو خود اپنے ہاتھوں قتل کرنا ہے۔ یہ اپنے مجرم ہونے پر خود گواہ بننا ہے۔ کیسی عجیب ہے یہ محرومی، مگر جب آدمی کی بے حسی بڑھ جاتی ہے تو وہ اپنی محرومی کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader