اللہ اکبر
Urdu book, p. 80
By Maulana Wahiduddin Khan
ان کارروائیوں کو اپنی فتح سمجھتا ہے۔ وہ اپنے کو ہلاک کر رہا ہوتا ہے مگر سمجھتا ہے کہ میں اپنے آپ کو زندگی دے رہا ہوں ۔ اژدہا بھی اژدہا کا لفظ سنتے ہی ایک خطرناک جانور کا تصور سامنے آتا ہے ۔ اژدہا کی بہت سی قسمیں ہیں ۔ ہندوستان کے جنگلوں میں اس خوفناک سانپ کی جو قسم پائی جاتی ہے اس کو ماہرین حیوانات مالورس اژدہا (Python molurus) کہتے ہیں ۔ اس کی لمبائی 20 فٹ ہوتی ہے اور وزن 200 پونڈ سے زیادہ جب کہ وہ پورا ہو جائے۔ تاہم دوسرے وحشی جانوروں کی طرح اژدہا بھی کوئی خطرناک جانور نہیں۔ وہ کسی انسان یا کسی جاندار پر صرف دو حالتوں میں وار کرتا ہے ۔ جب کہ وہ بہت بھوکا ہو ، یا اس پر حملہ کیا جائے ۔ عام حالات میں وہ بالکل بے ضرر جانور کی طرح پڑا رہتا ہے ۔ ایک ماہر حیوانات نے اژدہا کے طویل مطالعہ کے بعد لکھا ہے : A python, however large it may be, is nervous by nature and like all other sankes will never attack deliberately nor will it become aggressive unless provoked. It threatens by hissing or disappears if encountered in the wild but does not stand up and fight as one migt imagine. اژدہا، خواہ کتنا ہی بڑا ہو، فطری طور پر وہ عصبی مزاج کا ہے ۔ وہ دوسرے تمام سانپوں کی طرح کبھی بالقصد حملہ نہیں کرے گا۔ اور نہ کبھی وہ جارح بنے گا۔ الا یہ کہ اسے اشتعال کر دیا جائے ۔ اگر جنگل میں اس کا سامنا پیش آجائے تو وہ آواز نکال کر ڈرائے گا یا غائب ہو جائے گا مگر وہ نہ تو اٹھے گا اور نہ لڑائی کرے گا ۔ جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے (ہندوستان ٹائمس، 19 اکتوبر (1984) ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader