Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 81

By Maulana Wahiduddin Khan

اژدہ ہے کے اندر یہ خصوصیت محض اتفاقا نہیں ۔ وہ براہ راست خالق کائنات کا منصوبہ ہے۔ اژدہا فطرت کی ایک خاموش پکار ہے۔ وہ عمل کی زبان میں انسان سے کہہ رہا ہے کہ ۔ اگر تم اژدہا ہو تب بھی کسی کو نہ کاٹو ۔ اگر تم زور اور قوت میں دوسروں سے بڑھ جاؤ تب بھی دوسروں کو نہ ستاؤ ۔ کیسا عجیب ہے وہ انسان جو ایک ایسی دنیا میں ظلم کرتا ہے جہاں شیر اور اژدہے تک کی سطح پر اس کو ظالم نہ بننے کا سبق دیا جا رہا ہے۔ خدا پرستی موجودہ دنیا میں زندگی گزارنے کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک خودرخی ( self-oriented ) زندگی ۔ دوسری خدا رخی ( God - oriented ) زندگی۔ آدمی یا تو خود پرست ہوگا یا خدا پرست۔ اس کا مرکز ومحور اپنی ذات ہوگی یا خدا کی ذات ۔ وہ یا تو اپنے رخ پر دوڑے گا یا خدا کے رخ پر ۔ زندگی کے بس یہی دو طریقے ہیں۔ ان کے سوا زندگی کا کوئی تیسرا طریقہ نہیں۔ خودرخی زندگی وہ ہے جس میں آدمی کی توجہ کا مرکز صرف اس کی اپنی ذات ہو۔ وہ بس اپنے آپ میں جئے ۔ وہ اپنے وسائل کو اپنی ذات کی تکمیل میں خرچ کرے ۔ فلسفیانہ زبان میں اس طرزِ فکر کا نام ذاتی طرزِ فکر ( Self - centered thinking ) ہے۔ اور اخلاقی زبان میں اس کو خود غرضی ، بے اصولی ، خواہش پرستی اور مفاد پسندی کہا جاتا ہے ۔ ایسا آدمی بظاہر انسان ہوتا ہے۔ مگر اندر سے حیوان کی مانند ہوتا ہے۔ اس کے جینے کی سطح اور حیوانات کے جینے کی سطح میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ خدا رخی زندگی وہ ہے جس میں آدمی کی توجہ کا مرکز صرف ایک خدا ہو۔ خدا کو وہ ایک ایسے بڑے کی حیثیت سے پالے جس کے بعد اپنی ذات سمیت ہر چیز اس کی نظر میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page