Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 88

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے ۔ خدا بھی آدمی کے لیے ایک دریافت ہے۔ مگر یہ دریافت صرف اس شخص کے حصہ میں آتی ہے جس نے اپنے آپ کو خدا میں شامل کر رکھا ہو۔ جب آدمی اپنا ذہن خدا میں لگائے ہوئے ہو۔ وہ خدا کی نظر سے دیکھتا ہو اور خدا کے کان سے سنتا ہو۔ وہ دوسری تمام باتوں سے اپنی توجہ ہٹا کر خدا کی طرف مائل ہو گیا ہو، جب کوئی شخص اس قسم کی زندگی گزارے تو اس کو بار بار وہ اتفاقات پیش آتے ہیں جن کو معرفت کہا جاتا ہے۔ دنیا کی چیزوں کا مشاہدہ، انسانی تاریخ کا مطالعہ، اپنے حالات پر غور و فکر ہر چیز میں اس کا ذہن بار بار حقیقت اعلیٰ کی طرف منتقل ہوتا ہے، وہ بار بار ربانی تجلیات کو پاتا رہتا ہے۔ خدا کی معرفت خدا میں جینے کی نقد قیمت ہے۔ یہ قیمت اسی کو ملے گی جو خدا میں جی رہا ہو۔ جو کسی اور چیز میں جئے وہ خدا کی معرفت کا رزق کبھی نہیں پا سکتا۔ توحید اور شرک آدمی کو موجودہ دنیا میں زندہ رہنے کے لیے ایک سہارا درکار ہے۔ ہر آدمی کسی نہ کسی بڑائی میں جیتا ہے۔ مومن وہ ہے جو خدا کی بڑائی میں جئے اور غیر مومن وہ ہے جو خدا کے سوا دوسری بڑائیوں میں جیتا ہو۔ قدیم زمانہ کا مشرک انسان چاند اور سورج کی بڑائی میں جیتا تھا۔ موجودہ زمانہ کا مادہ پرست انسان مادی قوتوں کی بڑائی میں جی رہا ہے۔ کچھ لوگ دولت کو بڑا بنا کر اس کو اپنی تلاش کا جواب بنائے ہوئے ہیں۔ کچھ لوگ انسانی اکابر کی بڑائی میں گم رہتے ہیں اور اس طرح اپنے اس فطری جذبہ کی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ یہ تمام کی تمام شرک کی صورتیں ہیں۔ یہ ایک حقیقی تلاش کا مصنوعی جواب ہے۔ مومن وہ ہے جو فطرت کی تلاش کے سچے جواب کو پالے۔ جو ظاہری چیزوں میں نہ اٹکے۔ بلکہ ظاہری اور نمائش چیزوں سے گزر کر آخری حقیقت تک پہنچ جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page