Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 89

By Maulana Wahiduddin Khan

مومن انسان جب ان چیزوں کو دیکھتا ہے تو وہ ان کی ظاہری چمک سے فریب نہیں کھاتا۔ یہ تمام چیزیں اس کو صرف مخلوق نظر آتی ہیں۔ وہ اس کو اسی مقام عجز پر دکھائی دیتی ہیں جہاں وہ خود کھڑا ہوا ہے۔ مومن ان چیزوں میں سے کسی پر نہیں ٹھہرتا۔ اس کا سفر جاری رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ خدا تک پہنچ جاتا ہے۔ وہ مخلوقات سے گزر کر خالق کو پا لیتا ہے۔ مومن وہ ہے جو اپنی تمام چیزوں کو خدا کا عطیہ سمجھے۔ جو اپنے عجز کی تلافی خدا سے کرے، جس کو زمین کے حسن میں خدا کا حسن دکھائی دے، جس کو کائنات کی عظمت میں خدا کی عظمت نظر آئے، جو تمام بڑائیوں کو خدا کا عکس سمجھتا ہو۔ جو خدا کے جلووں میں اس طرح گم ہو جائے کہ اس کی حمد خوانی اس کا لذیذ ترین مشغلہ بن جائے۔ ایمان کا مطلب دراصل حاضر میں غائب کو دیکھنا ہے۔ جو کچھ سامنے ہے اس میں اس چھپی ہوئی چیز کو دیکھ لینا ہے جو سامنے نہیں ہے۔ جس کو یہ نظر حاصل ہو جائے اس کو اپنے چاروں طرف صرف خدا کی بڑائی دکھائی دیتی ہے۔ وہ صرف خدا کو اپنا سب کچھ بنا لیتا ہے۔ وہ خدا کی بڑائی میں اس طرح گم ہو جاتا ہے کہ اس کو نہ اپنی بڑائی نظر آتی اور نہ دوسروں کی بڑائی۔ دریافت لندن سے ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام ہے دریافت کرنے والے: The Discoverers: A History of man's Search to Know His World and Himself by Daniel Boorstin, Randon House, p.745 مصنف نے اس کتاب میں دریافتوں کی تاریخ کا مطالعہ کیا ہے۔ مختلف لوگ جنھوں نے کسی شعبہ علم میں کوئی نئی چیز یا نیا نظریہ دریافت کیا وہ مصنف کی خصوصی توجہ کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page