Urdu book · اللہ اکبر

دریافت

Urdu book, p. 90

By Maulana Wahiduddin Khan

مرکز بنے ہیں۔ مصنف دریافت کرنے والوں کی شخصیت سے اتنا متاثر ہے کہ وہ کہہ اٹھتا ہے کہ میرا ہیر و دریافت کرنے والا انسان ہے: My hero is Man the Discoverer یہ صرف مذکورہ مصنف کی بات نہیں بلکہ یہ عام انسانی فطرت کی بات ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ”دریافت“ ہر انسان کی محبوب ترین چیز ہے۔ جو آدمی کسی نئی چیز کا انکشاف کرے وہ لوگوں کی نظر میں اعلیٰ ترین انسان کا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔ حق کا داعی بھی ایک اعتبار سے دریافت کرنے والا (discoverer) ہوتا ہے۔ وہ باطل کے مقابلہ میں حق کو دریافت کرتا ہے۔ جو چیز لوگوں کو معلوم نہیں ہے اس کو معلوم کر کے لوگوں کے سامنے رکھتا ہے: عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ (96:5)۔ دریافت حقیقت لوگوں کی چھپی طلب کے جواب کا دوسرا نام ہے۔ لوگوں کے دل میں یہ خواہش چھپی ہوئی تھی کہ وہ مواصلات (communications) کے لیے تیز رفتار ذریعہ پالیں۔ جب ایک شخص نے تیز رفتار ذریعہ سفر دریافت کیا تو گویا اس نے ہزاروں برس سے لوگوں کی چھپی ہوئی تمنا کو پورا کیا۔ اس بنا پر وہ لوگوں کا محبوب بن گیا۔ یہی معاملہ حق کا ہے۔ ہر دور میں ایسا ہوتا ہے کہ بہت سے خدا کے بندے اس تلاش میں ہوتے ہیں کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا۔ صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔ اب ایک شخص جو خود بھی اس تلاش سے دوچار تھا وہ حق کو اس کی کامل صورت میں دریافت کرتا ہے۔ اور اس کو لوگوں کے سامنے اس طرح پیش کرتا ہے کہ وہ لوگوں کے چھپے ہوئے سوال کا جواب بن جائے ۔ جب ایسا شخص ظہور میں آتا ہے تو بالکل فطری طور پر وہ ان تمام لوگوں کا ”ہیرو“ قرار پاتا ہے جن کو اس نے تلاش کے دلدل سے نکالا تھا ۔ دریافت کرنے والا شخص لوگوں کی نظر میں ہیرو بن جاتا ہے اور اسی طرح حق کو دریافت کرنے والا بھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page