Urdu book · اللہ اکبر

خدا سے نسبت

Urdu book, p. 93

By Maulana Wahiduddin Khan

بزرگ نے جواب دیا کہ بات یہ ہے کہ جب میں گھر سے مسجد جانے کے لیے نکلا تو مجھ کو ایسا لگا کہ میں ایک ایسی جگہ جا رہا ہوں جہاں خدا کی رحمت و مغفرت تقسیم ہو رہی ہے۔ اس وقت شوق ہوا کہ میں لپک کر جلد سے وہاں پہنچوں۔ مگر جب اندر داخل ہوا تو خدا کی عظمت کے مقابلہ میں اپنے عجز کا احساس مجھ پر غالب آ گیا اور میرے قدموں کی رفتار اچانک سست پڑ گئی۔ "آپ سست قدموں سے بھی تو اگلی صف میں جاسکتے تھے" آدمی نے دوبارہ پوچھا۔ بزرگ نے کہا کہ تمہارا یہ کہنا صحیح ہے۔ مگر اس وقت مجھ پر یہ احساس طاری ہوا کہ خدا کی رحمت و مغفرت کا خزانہ تو ختم ہونے والا نہیں۔ اگر میں پیچھے بیٹھ جاؤں تب بھی اس کی تقسیم کا سلسلہ ضرور یہاں تک پہنچ جائے گا۔ اس کے بعد بزرگ نے کہا کہ بندے کی نجات کا دار و مدار اس پر ہے کہ وہ خدا کی صفات کا ادراک کرے۔ بندے اور خدا کے درمیان اس کی صفات ہی کے ذریعہ اتصال قائم ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص خدا کی صفتوں میں سے کسی صفت کا ادراک کرتا ہے تو گویا وہ اپنے آپ کو خدا کی زد میں لاتا ہے۔ جس طرح سورج کسی کو اس وقت روشن کرتا ہے جب کہ وہ اپنے آپ کو اس کی کرنوں کی زد میں لائے۔ اسی طرح ایک بندہ اس وقت اپنے رب کی زد میں آتا ہے جب کہ وہ خدا کی صفات کی معرفت حاصل کرے۔ بزرگ جب مسجد کی طرف جا رہے تھے تو انھوں نے خدا کی حیثیت دریافت کی کہ خدا دینے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی دینے والا نہیں۔ جب وہ مسجد میں داخل ہوئے تو انھوں نے خدا کے بڑے ہونے کو پہچانا اور اس کے مقابلہ میں اپنے عجز کو دریافت کیا۔ پہلے مرحلہ میں انھوں نے معطی ہونے کی حیثیت سے خدا سے نسبت قائم کی اور دوسرے مرحلہ میں خدا کے علی و کبیر ہونے کی حیثیت سے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page