حق کی پہچان
Urdu book, p. 94
By Maulana Wahiduddin Khan
حق کی پہچان شری رام رتن کپلا دہلی میں ریفریجر یٹر کے تاجر ہیں اور شری موتی رام صراف دہلی میں سونے چاندی کا کاروبار کرتے ہیں۔ دونوں میں بہت دوستی ہے۔ اکثر صبح کو دونوں ایک ساتھ ٹہلنے کے لیے نکلتے ہیں اور ایک ساتھ واپس آتے ہیں۔ ایک روز دونوں ایک مقام پر ٹہل رہے تھے۔ شری رام رتن کپلا کو ایک جگہ راستے کے کنارے ایک چمکتی ہوئی چیز دکھائی دی۔ انھوں نے اس کو شیشہ کا ٹکڑا سمجھا اور تفریح کے طور پر ہاتھ میں اٹھا لیا۔ ٹہلنے کے بعد دونوں گھر واپس آئے شری رام رتن کپلا نے واش بین پر ہاتھ دھویا اور مذکورہ ٹکڑے کو بے خیالی کے ساتھ ایک کنارے ڈال دیا۔ اس کے بعد شری موتی رام صراف اپنا ہاتھ دھونے کے لیے واش بین پر آئے، ان کی نگاہ مذکورہ ٹکڑے پر پڑی۔ اس کی چمک دیکھتے ہی فوراً انھوں نے پہچان لیا کہ یہ ہیرا ہے۔ انھوں نے اس کو اٹھا لیا اور اس کو دھو کر شری رام رتن کپلا کے پاس لے گئے۔ جب انھوں نے بتایا کہ یہ ہیرا ہے تو شری رام رتن کپلا کو بہت تعجب ہوا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے تو اسے معمولی شیشہ کا ٹکڑا سمجھا تھا۔ خیریت ہوئی کہ میں نے اسے پھینک نہیں دیا۔ شری رام رتن کپلا ہیرے سے بے خبر نہ تھے۔ ان کے گھر میں ہیرے کا نیکلس موجودہ تھا جس کو وہ نہایت احتیاط کے ساتھ اپنی مخصوص الماری میں رکھے ہوئے تھے۔ مگر راستہ میں پڑے ہوئے ہیرے کو وہ پہچان نہ سکے۔ شری موتی رام صراف بھی ہیرے سے واقف تھے اور شری رام رتن کپلا بھی۔ فرق یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader