Urdu book · امن عالم

اسلامی نظام

Urdu book, p. 106

By Maulana Wahiduddin Khan

ہنگامہ آرائی ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں جہاد۔ اسلامی جہاد وہ ہے جو اللہ کے راستہ میں کیا جائے۔ ملک یا مال جیسی دنیوی چیزوں کے لیے لڑائی چھیڑنا اور اس کو جہاد بتانا صرف فساد ہے۔ ایسے لوگوں کو کسی بھی حال میں اسلامی جہاد کا کریڈٹ نہیں دیا جاسکتا۔ اسی طرح اسلامی شریعت کے مطابق کسی کے خلاف جنگ کا اعلان باقاعدہ طور پر قائم شدہ حکومت ہی کر سکتی ہے۔ افراد کو یہ اجازت نہیں کہ وہ بطور خود جہاد کے نام پر کسی کے خلاف لڑائی چھڑ دیں۔ افراد کو خواہ کوئی بھی شکایت ہو مگر انھیں لازم پرامن دائرہ میں کام کرنا ہے۔ جنگ اور تشدد کا طریقہ اختیار کرنا ان کے لیے کسی بھی حال میں جائز نہیں۔ اسی طرح جہاد (بمعنی قتال) مکمل طور پر ایک دفاعی عمل ہے۔ جارحانہ قتال اسلام میں قطعاً جائز نہیں۔ مزید یہ کہ اگر کوئی قوم جارحانہ حملہ کرے تب بھی پہلے جنگ کو ٹالنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ جنگ صرف اس وقت کی جائے گی جب کہ اس کو ٹالنے یا اعراض کرنے کی ساری کوششیں ناکام ہو چکی ہوں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین نے ان کو 80 سے زیادہ بار جنگ اور ٹکراؤ میں الجھانا چاہا مگر ہر بار آپ نے حسن تدبیر سے جنگ کو ٹال دیا۔ صرف تین بار، بدر اور احد اور حنین کے مواقع پر آپ عملی طور پر جنگ میں شریک ہوئے جبکہ جنگ کے بغیر کوئی چارہ ہی باقی نہیں رہ گیا تھا۔ اس طرح خود حکومت کے لیے بھی جنگ کرنا صرف اس وقت جائز ہوگا جب کہ اس نے جنگ کی ضروری تیاری کر لی ہو۔ ضروری تیاری کے بغیر جنگ میں کودنا خودکشی ہے، نہ کہ اسلامی معنوں میں کوئی جہاد۔ اسلام میں صرف نتیجہ خیز اقدام کی اجازت ہے۔ جس اقدام کا کوئی مثبت نتیجہ نہ نکلے وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے خودکشی کی ایک چھلانگ ہے، نہ کہ کوئی اسلامی یا دینی عمل۔ اسلام میں جائز جنگ بھی ایک کھلے عمل کا نام ہے، خفیہ انداز کی جنگی کاروائی کرتا اسلام میں ہرگز جائز نہیں۔ اس اصول کی بنا پر پراکسی وار (proxy war) اسلام میں ناجائز قرار پاتی ہے۔ کیوں کہ پراکسی وار میں ملوث حکومت خفیہ مدد کے ذریعہ کسی اور گروہ سے تشدد کی کاروائی کراتی ہے، وہ اعلان کے ساتھ اس میں شریک نہیں ہوتی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page