یرغمال بنانا
Urdu book, p. 107
By Maulana Wahiduddin Khan
یرغمال بنانا موجودہ زمانہ کے کچھ مسلمان اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف وہ متشددانہ کارروائیاں کر رہے ہیں جن کو ہائی جیکنگ یا یرغمال بنانا کہا جاتا ہے۔ اس قسم کے تمام طریقے اسلام میں سراسر ناجائز ہیں۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں، وہ یقینی طور پر اللہ کی پکڑ سے بے خوف ہیں، ورنہ وہ ہرگز ایسی مذموم حرکتیں نہ کریں۔ ہوائی جہاز کو ہائی جیک کرنا بے قصور انسانوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بناتا ہے۔ اس قسم کی بزدلانہ حرکت انسانیت کے خلاف بھی ہے اور خدا کے دین کے خلاف بھی۔ یرغمال بنانے کا غیر اسلامی ہونا دور اول کے ایک واقعہ سے ثابت ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین جو مکہ میں تھے، انھوں نے یہ خلاف انسانیت حرکت کی تھی کہ کچھ مسلمانوں کو اپنے یہاں قید کر رکھا تھا۔ اس دوران پیغمبر اسلام اور آپ کے مخالفین کے درمیان وہ معاہدہ ہوا جو معاہدہ حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس معاہدہ کے وقت پیغمبر اسلام نے مخالفین سے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ تم لوگ ہمارے آدمیوں کو واپس کرو۔ البتہ خود یک طرفہ طور پر یہ اعلان فرمایا کہ اگر تمہارا کوئی آدمی ہمارے قبضہ میں آجائے گا تو ہم اس کو اپنے پاس نہیں روکیں گے بلکہ اس کو تمہاری طرف واپس کر دیں گے۔ اس سے یہ مسئلہ نکلتا ہے کہ فریق ثانی اگر ہمارے آدمیوں کو یرغمال بنائے تب بھی ہمارے لیے جائز نہیں کہ ہم ان کے آدمیوں کو یرغمال بنانے لگیں۔ اصل ذمہ دار موجودہ زمانہ میں اسلام کے نام پر نفرت اور تشدد کا جو طوفان برپا ہے، اس کا اصل ذمہ دار کون ہے ۔ اس کا اصل ذمہ دار وہ مسلم نوجوان نہیں ہیں جو نفرت اور تشدد کے مذکورہ کام میں مبتلا ہیں۔ بلکہ اس کے اصل ذمہ دار وہ نام نہاد اسلامی مفکرین ہیں جنھوں نے ان نوجوانوں کو اسلامی انقلاب کے نام پر ایک ایسا فکر دیا جو عملی طور پر یہی منفی نتیجہ پیدا کر سکتا تھا اور یہی اس نے پیدا کیا۔ اسلام کا طریقہ دعوت کا طریقہ ہے۔ اس کے برعکس، دوسرا طریقہ سیاست کا طریقہ ہے۔ دعوت کا طریقہ امن کی بنیاد پر چلتا ہے اور سیاست کا طریقہ ٹکراؤ کی بنیاد پر چلایا جاتا ہے۔ موجودہ زمانہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader